نوجوانوں کے لیے پاکستان میں اپنے کاروبار کا آغاز کرنا آسان ہے یا مشکل

business in pakistan،


تعلیم کے دوران ہر بچے کا خواب ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر  کچھ بڑا کرے گا۔

کچھ نیا کرے گا یا اپنا خود کا کاروبار شروع کرے گا اور بہت سارا پیسہ کمائے گا۔
اتنا سارا پیسہ کمائے گا کہ دنیا دیکھے گی۔

ایک سوال جو کہ بچپن میں ہم سب سے پوچھا گیا ہوگا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟

آج تک میں اس سوال کا جواب تو نہیں دے پایا لیکن دل میں سوچتا ضرور ہوں۔۔۔۔۔۔۔ کہ کیا بنوں گا۔
کے کہ بڑا ہو کر کر کیا بنوں گا۔


پاکستان میں میرے جیسے اور بھی بہت سے نوجوان ہیں۔ جو سوچتے ہیں کہ آپ نے باس آپ بنیں گے۔ اور کہیں پر بھی نوکری نہیں کریں گے بلکہ اپنا خود کا کاروبار کریں گے۔ 

لیکن حقیقت میں ہوتا کیا ہے۔

دراصل اسکول یا کالج سے تعلیم حاصل ل کرنے کے بعد۔ ہمارے دماغ میں کاروبار شروع کرنے کا کا خیال تک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہاتھ میں نوکری تلاش کرنے کے لئے سی وی ضرور ہوتی ہے۔


ہمارے ملک میں کاروبار کرنے کے لئے نوجوانوں کو جو مشکلات آتی ہیں وہ تین قسم کی ہیں۔

  کاروبار کے متعلق معلومات
ہم نے جو کاروبار شروع کرنا ہوتا ہے ہمیں اس کی مکمل معلومات نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی ہمارے ملک میں ایسے ادارے ہیں جو کہ کاروبار کے متعلق نوجوانوں کو معلومات فراہم کریں۔


سرمایہ کاری کا مسئلہ
اگر ہم میں سے کسی کے پاس کاروبار کرنے کے لیے مکمل معلومات ہے۔ تو پھر بھی جو مسئلہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
 وہ ہے سرمایہ کاری

 اگر ہم بینک سے قرضہ لیتے ہیں تو اس کے اوپر سود کی پریشانی، جو کہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آسانی سےادا نہیں کر پاتے۔ اور بینک بھی ان لوگوں کو ہی قرضہ دیتا ہے جن کے پاس پہلے سے ہی اچھے خاصے پیسے ہوتے ہیں۔ 

ہمارے نوجوانوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک واحد سہارا ان کے والدین، بہن بھائی، رشتہ دار یا پھر دوست وغیرہ ہی ہیں۔ 


ٹیم ورک / ایماندار ورکر

مان لیا کہ آپ کے پاس کاروبار کرنے کے لئے معلومات بھی موجود ہے اور پیسے بھی ہیں۔ اب کاروبار شروع کرنے کے لیے سب کچھ آپ اکیلے تو نہیں کر سکتے۔ آپ کے پاس اس بہترین کام کرنے والے اور ایمان دار لوگ بھی ہونے چاہئیں۔ اور ایسے لوگ ہمارے جیسے ملک میں تلاش کرنا ایک بہت برا چیلنج ہے۔ 

ہمارے ملک میں نوجوانوں کے پاس اس صرف اور صرف ڈگریاں ہیں اور ہنر بالکل بھی نہیں۔ ہمیں صرف کتابی باتیں  پڑھائی جاتی ہیں۔ پریکٹیکل پر توجہ بھی نہیں دی جاتی۔ پھر یہاں کاروباری لوگ کیسے پیدا ہوگے۔


 ان سب مشکلات کا حل کیسے نکالے؟


ایک ایسا تعلیمی نظام ہونا چاہیے جس میں تعلیم بھی ہو اور پریکٹیکل پربھی توجہ دی جائے۔ صرف اور صرف ڈگریاں حاصل کرنے سے ملک ترقی نہیں کریں گا۔

ڈگری کے ساتھ کاروبار کے بارے میں انفارمیشن بھی دی جائے اور جو لوگ وہ کاروبار کررہے ہیں وہاں لے کربھی جایا جائے۔ تاکہ بچوں کو پتہ لگے کہ یہ کمپنیاں کیسے کام کر رہی ہیں۔ اور کیا کام ہو رہا ہے۔



مزید آرٹیکلز 

سب کچھ درست کرنے کے لئے انسان کی تصویر کو ٹھیک کرنا ‏ضروری ‏ہے



ہماری خود کو بدلنے کی ناکام کوششں


0 Comments: