سب کچھ درست کرنے کے لئے انسان کی تصویر کو ٹھیک کرنا ‏ضروری ‏ہے


ایک آدمی پڑھنے میں مصروف تھا۔ اور قریب ہی اس کا بیٹا کھیلنے میں مصروف تھا۔ جب بیٹے نے شور کرنا شروع کر دیا یا تو والد نے بہت شفقت سے کہا۔ 

دیکھو بیٹا میں مطالعہ کرنے میں مصروف ہوں۔ اسی لیے شور کرنا بند کرو۔

بیٹے نے بات سنی اور کچھ دیر کے لیے خاموش ہی رہا۔ لیکن زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکا۔

اور پھر سے شور شرابہ کرنے لگا۔

اب اس کے والد نے ایک طریقہ سوچا، ایک اخبار سے نقشہ لیا اور اسے پھاڑ دیا۔ اس نقشے کے ٹوٹکرے اپنے بیٹے کو دیئے اور کہا جاؤ اسے جوڑ کر لاؤ۔

بیٹے نے نقشے کے سب ٹکڑے لئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ باپ نے اسکون کا سانس لیا کہ اب ایک سے دو گھنٹے مجھے پڑھنے کا وقت مل جائے گا۔

لیکن بیٹا کچھ ہی دیر میں نقشہ جوڑ کر واپس آگیا۔ وہ بھی بالکل ٹھیک۔

باپ نے حیران ہوکر بیٹے سے پوچھا کہ تم نے یہ سب اتنا جلدی کیسے کیا۔ بیٹے نے جواب دیا کہ بہت ہی آسان تھا- کیونکہ اس کے پیچھے ایک تصویر بنی ہوئی تھی میں نے نقشے کو نہیں بلکہ اس تصویر کو مکمل کیا۔ اس طرح نقشہ خودبخود مکمل ہوگیا۔ 


اس سب سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے اردگرد موجود تمام نقشہ بگڑا ہوا ہے۔

ہمارے گھروں کا
ہمارے معاشرے کا
ہمارے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کا
ہمارے شہر اور ہمارے ملک کا
ہماری تعلیم کا

آج ہر اس چیز کا نقشہ بکھرا ہوا ہے- جس کا انسان سے تعلق ہے

اگر ہم اس نقشے کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے انسان کی تصویر کو ٹھیک کیا جائے۔


یہ تصویر میرا اور میرے اردگرد موجود تمام لوگوں کا وہ عمل  اور وہ کام ہے جو جو روزانہ کرتے ہیں۔ تو بس ہمیں اپنے عمل کو اور اپنی اپنی نیت  کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

0 Comments: