ہم ایک نیا رشتہ کیوں پیدا کریں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

خموشی سے رسم ہوتی ہے تو ہنگامہ کیوں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

یہی کافی ہے کے ہم دشمن نہیں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

نوجوانوں کے لیے پاکستان میں اپنے کاروبار کا آغاز کرنا آسان ہے یا مشکل

business in pakistan،


تعلیم کے دوران ہر بچے کا خواب ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر  کچھ بڑا کرے گا۔

کچھ نیا کرے گا یا اپنا خود کا کاروبار شروع کرے گا اور بہت سارا پیسہ کمائے گا۔
اتنا سارا پیسہ کمائے گا کہ دنیا دیکھے گی۔

ایک سوال جو کہ بچپن میں ہم سب سے پوچھا گیا ہوگا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے؟

آج تک میں اس سوال کا جواب تو نہیں دے پایا لیکن دل میں سوچتا ضرور ہوں۔۔۔۔۔۔۔ کہ کیا بنوں گا۔
کے کہ بڑا ہو کر کر کیا بنوں گا۔


پاکستان میں میرے جیسے اور بھی بہت سے نوجوان ہیں۔ جو سوچتے ہیں کہ آپ نے باس آپ بنیں گے۔ اور کہیں پر بھی نوکری نہیں کریں گے بلکہ اپنا خود کا کاروبار کریں گے۔ 

لیکن حقیقت میں ہوتا کیا ہے۔

دراصل اسکول یا کالج سے تعلیم حاصل ل کرنے کے بعد۔ ہمارے دماغ میں کاروبار شروع کرنے کا کا خیال تک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہاتھ میں نوکری تلاش کرنے کے لئے سی وی ضرور ہوتی ہے۔


ہمارے ملک میں کاروبار کرنے کے لئے نوجوانوں کو جو مشکلات آتی ہیں وہ تین قسم کی ہیں۔

  کاروبار کے متعلق معلومات
ہم نے جو کاروبار شروع کرنا ہوتا ہے ہمیں اس کی مکمل معلومات نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی ہمارے ملک میں ایسے ادارے ہیں جو کہ کاروبار کے متعلق نوجوانوں کو معلومات فراہم کریں۔


سرمایہ کاری کا مسئلہ
اگر ہم میں سے کسی کے پاس کاروبار کرنے کے لیے مکمل معلومات ہے۔ تو پھر بھی جو مسئلہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
 وہ ہے سرمایہ کاری

 اگر ہم بینک سے قرضہ لیتے ہیں تو اس کے اوپر سود کی پریشانی، جو کہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آسانی سےادا نہیں کر پاتے۔ اور بینک بھی ان لوگوں کو ہی قرضہ دیتا ہے جن کے پاس پہلے سے ہی اچھے خاصے پیسے ہوتے ہیں۔ 

ہمارے نوجوانوں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک واحد سہارا ان کے والدین، بہن بھائی، رشتہ دار یا پھر دوست وغیرہ ہی ہیں۔ 


ٹیم ورک / ایماندار ورکر

مان لیا کہ آپ کے پاس کاروبار کرنے کے لئے معلومات بھی موجود ہے اور پیسے بھی ہیں۔ اب کاروبار شروع کرنے کے لیے سب کچھ آپ اکیلے تو نہیں کر سکتے۔ آپ کے پاس اس بہترین کام کرنے والے اور ایمان دار لوگ بھی ہونے چاہئیں۔ اور ایسے لوگ ہمارے جیسے ملک میں تلاش کرنا ایک بہت برا چیلنج ہے۔ 

ہمارے ملک میں نوجوانوں کے پاس اس صرف اور صرف ڈگریاں ہیں اور ہنر بالکل بھی نہیں۔ ہمیں صرف کتابی باتیں  پڑھائی جاتی ہیں۔ پریکٹیکل پر توجہ بھی نہیں دی جاتی۔ پھر یہاں کاروباری لوگ کیسے پیدا ہوگے۔


 ان سب مشکلات کا حل کیسے نکالے؟


ایک ایسا تعلیمی نظام ہونا چاہیے جس میں تعلیم بھی ہو اور پریکٹیکل پربھی توجہ دی جائے۔ صرف اور صرف ڈگریاں حاصل کرنے سے ملک ترقی نہیں کریں گا۔

ڈگری کے ساتھ کاروبار کے بارے میں انفارمیشن بھی دی جائے اور جو لوگ وہ کاروبار کررہے ہیں وہاں لے کربھی جایا جائے۔ تاکہ بچوں کو پتہ لگے کہ یہ کمپنیاں کیسے کام کر رہی ہیں۔ اور کیا کام ہو رہا ہے۔



مزید آرٹیکلز 

سب کچھ درست کرنے کے لئے انسان کی تصویر کو ٹھیک کرنا ‏ضروری ‏ہے



ہماری خود کو بدلنے کی ناکام کوششں


0 Comments:

خوب شراب پی ہم نے

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

وفا ہو اخلاص ہو یا قربانی

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

ہم تمہاری ہی کیوں تمنا کریں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

یاد ہے کہ تم سے وعدہ کیا تھا

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

یہ بستی مسلمانوں کی ہے

Jaun Elia Poetry, jaun elia, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

اپنے حال کو بہتر کرنے کے لیے حال بھی گیا

 Jaun Elia Poetry, jaun elia, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

جب دنیا کو ہماری فکر نہیں تو ہم بھی کیوں کریں

Jaun Elia Poetry, jaun elia, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

ہماری خود کو بدلنے کی ناکام کوششں ‏



ہم سب اپنے حالات اور معاشرے کو بدلنے کی بہت کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی
 اس عزم میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔

کیوں نہیں ہو پاتے؟

کیونکہ ہمارے میرے آس پاس موجود ہر انسان کی تصویر بکھری ہوئی ہے۔

خیالات بکھرے ہوئے ہیں
عمل بکھرے ہوئے ہیں
ارادے کمزور ہیں

فیصلے کرنے کی قوت نہیں
زندگی گزارنے کا شعور نہیں
علم حاصل کرنے کی لگن نہیں
مدد کرنے کی لگن نہیں
کام وقت پر کرنے کی عادت نہیں


جب تک ہم کسی فیصلے پر پہنچتے ہیں۔ تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہیں۔ ہماری گاڑی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔

اگر معاشرے کو درست کرنا ہے- تو اس سے پہلے خود کو درست کرنا ہوگا۔ اپنے خیالات، عمل، ارادے، اور اپنی سوچ کو درست کرنا ہوگا۔ مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ پھر ہی ہم ترقی کر پائے گے۔

0 Comments:

بے سبب ہی دھوم دھام کر رہے ہیں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

بات ہی ہم تمام کر رہے ہیں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

ہم تو آئے تھے اپنے مطلب کو

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

ہم یہ اعلان عام کر رہے ہیں

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,


0 Comments:

ہم ہر کسی کو سلام نہیں کرتے

jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

ہم ہیں مصروف انتظام مگر


jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

ہم تو خود سے کلام کر رہے ہیں


jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

اب تو قتل عام کر رہے ہیں


jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

اپنے یار کام کر رہے ہیں


jaun elia, Jaun Elia Poetry, john elia, Urdu poetry,

0 Comments:

کیسے کہہ دو کہ مجھے چھوڑ دیا اس نے


0 Comments:

سب کچھ درست کرنے کے لئے انسان کی تصویر کو ٹھیک کرنا ‏ضروری ‏ہے


ایک آدمی پڑھنے میں مصروف تھا۔ اور قریب ہی اس کا بیٹا کھیلنے میں مصروف تھا۔ جب بیٹے نے شور کرنا شروع کر دیا یا تو والد نے بہت شفقت سے کہا۔ 

دیکھو بیٹا میں مطالعہ کرنے میں مصروف ہوں۔ اسی لیے شور کرنا بند کرو۔

بیٹے نے بات سنی اور کچھ دیر کے لیے خاموش ہی رہا۔ لیکن زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکا۔

اور پھر سے شور شرابہ کرنے لگا۔

اب اس کے والد نے ایک طریقہ سوچا، ایک اخبار سے نقشہ لیا اور اسے پھاڑ دیا۔ اس نقشے کے ٹوٹکرے اپنے بیٹے کو دیئے اور کہا جاؤ اسے جوڑ کر لاؤ۔

بیٹے نے نقشے کے سب ٹکڑے لئے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ باپ نے اسکون کا سانس لیا کہ اب ایک سے دو گھنٹے مجھے پڑھنے کا وقت مل جائے گا۔

لیکن بیٹا کچھ ہی دیر میں نقشہ جوڑ کر واپس آگیا۔ وہ بھی بالکل ٹھیک۔

باپ نے حیران ہوکر بیٹے سے پوچھا کہ تم نے یہ سب اتنا جلدی کیسے کیا۔ بیٹے نے جواب دیا کہ بہت ہی آسان تھا- کیونکہ اس کے پیچھے ایک تصویر بنی ہوئی تھی میں نے نقشے کو نہیں بلکہ اس تصویر کو مکمل کیا۔ اس طرح نقشہ خودبخود مکمل ہوگیا۔ 


اس سب سے ہمیں ایک سبق ملتا ہے۔ وہ یہ کہ ہمارے اردگرد موجود تمام نقشہ بگڑا ہوا ہے۔

ہمارے گھروں کا
ہمارے معاشرے کا
ہمارے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کا
ہمارے شہر اور ہمارے ملک کا
ہماری تعلیم کا

آج ہر اس چیز کا نقشہ بکھرا ہوا ہے- جس کا انسان سے تعلق ہے

اگر ہم اس نقشے کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے انسان کی تصویر کو ٹھیک کیا جائے۔


یہ تصویر میرا اور میرے اردگرد موجود تمام لوگوں کا وہ عمل  اور وہ کام ہے جو جو روزانہ کرتے ہیں۔ تو بس ہمیں اپنے عمل کو اور اپنی اپنی نیت  کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔

0 Comments:

کانپ اٹھتی ہوں میں


0 Comments:

بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے


0 Comments:

اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے


0 Comments:

دن بیت ہی جاتے ہیں دوستوں


دن بیت ہی جاتے ہیں دوستوں

0 Comments:

کوئی بھی ہماری دوستی توڑ نہیں سکتا


0 Comments:

دوست کو کوئی بھی موقع نہیں دو دوستی توڑنے کا


0 Comments:

اے دوست تیری وجہ سے ہی تو زندگی ہے



اے دوست تیری وجہ سے ہی تو زندگی ہے

0 Comments:

سر اٹھا کر چلتا ہو کیونکہ دوست ساتھ ہے


0 Comments:

میری دعائیں صرف تمہارے ہی لیے ہیں


0 Comments:

میری دوستی کو تم کبھی نہیں بھول پاؤ گے



میری دوستی کو تم کبھی نہیں بھول پاؤ گے

0 Comments:

اپنے پیارے دوستوں کا خیال رکھا کرو


0 Comments:

دوست کی ترقی پر خوش ہونا چاہیے


0 Comments:

جد تو ہی اتھرو پونجنے نہیں


0 Comments:

تو پیار دی کشتی ڈوب چھڈی


0 Comments:

تیرا ساتھ وی منگ کے کی کردا


0 Comments:

مینو جینا ہی نہیں آیا


0 Comments:

او جاندی واری پلٹیا نہیں


0 Comments:

ایتھے لکھاں رانجھے پھر دے نے



0 Comments:

دکھ تے درد سی - بلھے شاہ




0 Comments:

یا خدا ہمیں سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا کر


0 Comments:

یا خدا ہمیں بخش دے



0 Comments: