ادب و عزت اور آج کے نوجوان

  

ادب و اخلاق ہمارے معاشرے کی سب سے زیادہ ضروری اور بنیادی چیز ہے۔ جو کہ ہمارے معاشرے کی ترقی کے لیے  بہت زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک انسان جس کے پاس ادب کرنے کی قوت نہیں۔ وہ ساری زندگی کہیں بھی اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔


ایک کہاوت مشہور ہے کہ "با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب" یعنی ادب ایک ایسی چیز ہے جو کسی بھی انسان کو بہت قیمتی بنا سکتی ہے۔ ادب و آداب اور اخلاق۔۔۔۔۔۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے۔


اسی لئے اسلام میں بھی ادب و احترام کے معاملے میں بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں سب کچھ صاف صاف بتا دیا گیا ہے اسی طرح ادب کے معاملات میں بھی صاف وضاحت کردی گئی ہے۔

آج ہم لوگ والدین، استاد اور پڑوسیوں کا احترام کرنا بھول چکے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کا ان تمام رشتوں کے ساتھ آجکل کا رویہ بہت زیادہ تکلیف دہ ہے


اجکل بوڑھے والدین کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جاتا ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔ والدین سے زیادہ اونچی آواز میں بات کرنا اور ان کی بےعزتی کرنا بہت ہی معمولی بات ہے۔ یہاں تک کہ معمولی سے جھگڑوں اور ماں باپ کی ذرا سی ڈانٹ پر والدین کو قتل کردیا جاتا ہے۔


والدین کے علاوہ استاد کا احترام بھی ہمارے اوپر فرض ہے ان کا جتنا بھی احترام کیا جائے وہ کم ہے۔ کیونکہ ہمارے استاد ہمارے روحانی باپ بھی ہیں۔ جوکہ ہماری تربیت کے ساتھ ہمیں زندگی  میں کامیابی کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ملک میں استاد کی عزت کرنے کی بجائے ان کی بےعزتی کی جاتی ہے۔

ہماری نوجوان نسل کو آج خاص طور پر اپنے استاد کے ساتھ  عزت اور احترام سے پیش آنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی بزرگ ہوں سب کی عزت اور احترام ہماری نوجوان نسل پر لازم ہے۔

آج ہم لوگ جس خوشی سے محروم ہیں۔ وہ خوشی ہمیں اپنے بزرگوں کی عزت اور احترام کی وجہ سے واپس مل سکتی ہے۔

ہمیں اولڈ ایج ہوم میں بزرگوں کی بہت بڑی تعداد دیکھنے کو ملے گی۔ جبکہ بزرگ  ہر گھر کے لئے باعث برکت اور رحمت ہوتے ہیں۔  

ہمارے نوجوانوں کو ادب و احترام کے علاوہ اپنی بول چال پر بھی خاصی توجہ کی ضرورت ہے۔ انسان کی گفتگو سے ہی انسان کی قابلیت اور شخصیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ غیر ضروری اور منفی گفتگو سے انسان کی ذہنی طاقت میں کمی آتی ہے۔ ہم سب لوگ ایک مثبت سوچ اور باوقار رویے کے ساتھ اپنے ملک کو مزید ترقی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ اپنی اردگرد موجود ہر انسان سے پیار کریں اس کی عزت کریں۔ اپنے بزرگوں، والدین اور استاد کی خدمت میں ہی ہم سب کی کامیابی ہے۔ 

0 Comments: