وقت کو ضائع کرنا زندگی کو ضائع کرنا ہے

وقت زندگی ہے اور اس کو بہتر طور پر استعمال کرکے ہی اپنی زندگی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے  آج کے دور میں ہمیں اپنے اندر وقت کی اہمیت کا احساس پیدا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ 


جو وقت ہمارے لئے قابل استعمال ہے وہ یہی وقت ہے جو ابھی گزر رہا ہے اگر ہم گھڑی کی طرف دیکھیں اور سوچے کہ جس طرح ہر لمحہ تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اسی طرح ہماری زندگی آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے

قلت وقت کی شکایت

انسان کی ایک عادت  ہے کہ وہ ہمیشہ قلت وقت کی شکایت کرتا رہتا ہے ایسا اس لئے ہے کہ انسان نے خود کو دنیا میں بہت بری طرح سے الجھا لیا ہیں۔ ہم لوگوں نے خود کو اتنا زیادہ الجھا لیا ہے کہ آخرت کے معاملات کے بارے میں بھی سوچنے کا ٹائم نہیں ہے۔

ہر انسان کے پاس جو زندگی ہے وہ صرف آج کی ہی زندگی ہے کیونکہ  اس کے پاس صرف وہی لمحہ ہے جو وہ گزار رہا ہے۔ اس لیے اپنے دن کو اس طرح تقسیم کرے کہ آپ اپنے دفتر کو بھی وقت دے، اپنے گھر والوں اور اپنے آپ کو بھی۔ اور یہ سب ہم صرف ایک ہی صورت میں کر سکتے ہیں جس کے لیے  ہمیں اپنے اندر وقت کی اہمیت کو پہچاننا ہو گا۔ 

اگر ہم اپنے وقت کا اچھے طریقے سے استعمال کریں گے تو ہم اپنی زندگی کو بھی اچھے طریقے سے گزار پائیں گے

مثال کے طور پر

ہر انسان نے ایک وقت تک اس دنیا میں رہنا ہے اور جو وقت انسان کو دیا گیا ہے وہ برف پگھلنے کی طرح تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ اور اگر اسے غلط کاموں میں ضائع کیا تو اس انسان کی زندگی بھی ضائع ہوجائے گی۔

دنیا کا وقت دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم نے وقت کا صحیح استعمال کرنا ہے یا غلط کیونکہ وقت کو ضائع کرنا زندگی کو ضائع کرنا ہے اور وقت کا صحیح استعمال کرنا زندگی کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

0 Comments:

تہذیب سے سلیقہ آتا ہے

0 Comments:

شچی محبت وعدوں سے نہیں ملتی

0 Comments:

کون لوگ ترقی کرنے والے ہوتے ہیں

0 Comments:

درد اب میرا واقف ہو گیا

0 Comments:

دوستی خریدی نہیں جاتی

0 Comments:

ہر بار خلوص بہت مہنگا پڑتا ہے

0 Comments:

جہاں دوست ہو وہاں مطلب نہیں ہوتا

0 Comments:

اچھے دن بھی آئیں گے

0 Comments:

محبت بہت مہنگی پڑتی ہے

0 Comments:

جب تم روٹھ جاتے ہو

0 Comments:

ہمسفر کے لیے

0 Comments:

قیامت تک جدا نہ کرے

0 Comments:

میرے درد کی شدت

0 Comments:

نا جانے زندگی کیسے گزرے گی



0 Comments: