پریشان اور افسردہ رہنا آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے


افسردگی اور پریشانی ہم سب کے لیے ایک بہت پیچیدہ مسئلہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اور میں پہلے کبھی نہیں ملے ہو گے۔ لیکن میں آپ کو پریشانی اور افسردگی کی حالت سے نکالنے میں مدد کر سکتا ہو۔ کیونکہ ہمیشہ پریشان اور افسرہ رہنا میری بھی عادت بن چکی تھی۔

اور ان سب پریشانیوں اور دماگی افسرگی سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں اپنے رب سے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ کہ ہمارا رب ہر وقت ہماری دعا قبول کرنے کو تیار ہے۔ بس دعا کرنے کی ضرورت ہے جو یسوع ہمیں ہر ایک کے ساتھ قبول کرتا ہے۔


آج سے کچھ ماہ پہلے میں بھی بہت زیادہ پریشان اور دماغی افسردگی کی حالت میں تھا۔ افسردگی اورپریشانی نے میری زندگی کی ہر خوشی تباہ کر دی تھی۔ اور یہ سب مجھے اندر اور باہر سے ختم کر رہی تھی۔


یہاں تک کہ مجھے اپنے گھر والوں اور دوستوں کی برپور مدد کا سہارا تھا۔ لیکن پھر بھی مجھ پر پریشانی اور افسردگی کی حالت ہر وقت رہتی تھی۔

مجھے اپنی ایسی حالت دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ میں زندگی کی جنگ ہار رہا ہوں۔

لیکن پھر میرے دل میں ایک امید پیدا ہوئی۔ کہ میرا خدا ہر وقت میرے ساتھ ہیں۔ اور میری مدد کو بھی ہر وقت تیار ہے۔


اور ان سب پریشانیوں اور دماگی افسرگی سے محفوظ رہنے کے لیے مجھے اپنے رب سے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ کہ میرا رب ہر وقت ہماری دعا قبول کرنے کو تیار ہے۔ بس مجھے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ ایسا سوچے گے۔ اور خدا سے مدد مانگے گے۔ اس کا شکر کرے گے۔ تب آپ کو دماغی سکون ضرور ملے گا۔ جیسا مجھے ملا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ آپ دماغی طور پر کتنے پریشان ہیں۔ یہ ایسی پریشانی ہے۔ جس کو کم کرنے کے لیے کچھ لوگ یا تو رات میں اکیلے بیٹھ کر روتے ہیں یا پھر اپنے چہرے پر ایک جھوٹی مسکراہٹ بنا لیتے ہیں۔ تاکہ لوگوں کو اس کی پریشانی اور کسی چیز پر افسردہ ہونے کا احساس نہ ہو۔

یہ ایک سچائی ہے۔ کہ خدا ہمیں سن رہا ہے۔ اسے ہماری پرواہ ہے۔ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ وہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔ اور اس کا کردار کبھی بھی نہیں بدلنے والا نہیں۔ خدا رحم کرنے والا ہے۔ پریشانیاں دور کرنے والا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔ 

لہذا ، جب کبھی آپ پرشان اور افسردگی کی حالت میں ہوں۔ تو اپنے خدا سے پوری امید کے ساتھ مدد مانگے۔ اس امید کہ ساتھ کہ وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔

دعا ہے۔ آپ سب کی پرشانیاں جلد ختم ہو جائے۔


1 comment: