انسانیت کی خاطر عبدالستار ایدھی کی ناقبل یقین خدمات اور فیصلے

abdul sattar edhi,

ایک چھوٹے سے گاؤں کا لڑکا جو اپنے گھر والوں کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے کراچی آتا ہے تاکہ کوئی کاروبار شروع کر سکے اور گھر کے حالات ٹھیک کرسکے۔

کاروبار کرنے کے لئے کپڑا خرید کر بیچنے کا ارادہ کیا۔  کپڑا بیچتے ہوئے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص کو کسی نے چاقو مار کر زخمی کر دیا۔ اور آس پاس کے لوگ اس زخمی انسان کو صرف تڑپتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ لیکن کسی نے بھی مدد کے لیے ہمت نہ کی۔ یہاں تک کہ وہ انسانوں وہی ترپتا ہوا مرگیا۔ یہ لڑکا عبدالستار ایدھی تھا جو یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔

عبدالستار ایدھی کو اس بات کا دلی بہت افسوس ہوا۔


عبدالستار ایدھی نے کہا کہ اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔
ایک وہ جو دوسروں کی جان لیتے ہیں۔
دوسرے وہ جو صرف تماشہ دیکھتے ہیں۔
اور تیسرے وہ جو مدد کرتے ہیں۔

عبدالستار ایدھی نے اپنے لیے فیصلہ کیا کہ وہ مدد کرنے والا بنانے گے۔

اسی سوچ کی بنیاد پر آپ نے کپڑے کا کاروبار کرنے کی بجاۓ ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام اور فون نمبر لکھوایا۔ اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔


یہ صرف پہلا قدم تھا۔ عبدالستار ایدھی تو اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرچکے تھے۔

اگر آپ عبدالستار ایدھی یہ پوسٹ مکمل پڑھے گے تو یقینََ آپ کا دماغ چکرا جائے گا۔ 

ایک بار عبدالستار ایدھی  نے دیکھا کہ ایک میت کے گھر والے  اس کی لاش کو نالے میں سے نکالنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہیں۔ اس بات پر عبدالستار ایدھی خود نالے میں سے اس لاش کو نکالنے کے لیے تیار ہوگیئے۔ آپ نے نہ صرف للاش کو نالے میں سے باہر نکالا بلکہ اس کو غسل دینے کا انتظام کیا۔ اس کا جنازہ پڑھایا اور خود اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر کھودی۔ اس سب کے بعد اس میت کو دفنایا گیا۔


عبد الستار ایدھی کے سوچنے کا انداز:

یہ سب کام،ایسی سوچ اورلوگوں کی مفت میں مدد کرنے کا جزبہ عبدالستار ایدھی کو ہم سب سے جدا کرتا ہے ---- یعنی کہ عبد الستار ایدھی بھی ہم سب کی طرح ہی ایک انسان تھے لیکن ان کی سوچ ہم سے مختلف تھی۔

عبد الستار ایدھی نے اگر کسی بڑھے انسان کو لاچار دیکھا تو ان کے کھانے لیے لئے مفت میں دسترخوان لگا دیئے۔

اگر بے بس عورتوں کو دیکھا تو ان کے لیے میٹرنٹی ہوم بنا دیئے۔


اور جب بے بس بچوں کو دیکھا تو چلڈرن ہوم بنا دیئے۔

اسی سوچ کے ساتھ مسلسل لوگوں کی کی مدد کرنے کے ارادے سے عبدالستار ایدھی آگے بڑھتے رہیں یہاں تک کہ ایدھی فاؤنڈیشن ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا۔
اسی فاؤنڈیشن کو کو سن دو ہزار میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی  شامل کیا گیا۔

آپ کی خدمات:
آپ نے نالوں سے آٹھ ہزار لاشیں نکالنے میں مدد کی۔
لاچار لڑکیوں کی شادی کروانے میں مدد کی۔
دنیا کا سب سے بڑا پرائیویٹ ایمبولینس نیٹ ورک بنایا۔


عبدالستار ایدھی خود تو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کے بنائے گئے ادارے آج بھی لوگوں کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔

پیغام:
اگر ہم لوگ انسان ہونے کا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمارے اندر بھی مفت میں لوگوں کی مدد کرنے کا جزبہ ہونا چاہیے۔

0 Comments: