12 Most Beautiful Quotes in Urdu With Pictures | Whatsapp Status in Urdu One Line



آپ کو ہمیشہ ایسے آدمی کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے جو آدمی خود اپنی نصیحت پر عمل کرتا ہو۔

آپ کی اصل عزت یہ ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پر موجود نہیں ہیں تب بھی وہاں آپ کی تعریف کی جا رہی ہو۔

زندگی کو مزید خوبصورت بنانے والی چند باتیں:

کبھی کسی کی توہین مت کرو۔
 

کبھی کسی کی عیب جوئی مت کرو۔

کبھی کسی کو اپنے سے کم مت سمجھو۔

کبھی کسی کو گالی مت دو۔

کبھی کسی کو دھوکا مت دو۔

کبھی کسی کو بد دعا مت دو۔

کبھی کسی کی چغلی مت کرو۔

کبھی کسی دوست کا راز ظاہر مت کرو۔

جہاں تک ہو سکے کوشش کریں۔ کہ کبھی کسی کا دل مت دکھاؤ۔

کسی بھی دین کا کام کرنے والے لوگوں کے خلاف کوئی غلط جملہ نہ کہو۔

0 Comments:

انسانیت کی خاطر عبدالستار ایدھی کی ناقبل یقین خدمات اور فیصلے

abdul sattar edhi,

ایک چھوٹے سے گاؤں کا لڑکا جو اپنے گھر والوں کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے کراچی آتا ہے تاکہ کوئی کاروبار شروع کر سکے اور گھر کے حالات ٹھیک کرسکے۔

کاروبار کرنے کے لئے کپڑا خرید کر بیچنے کا ارادہ کیا۔  کپڑا بیچتے ہوئے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص کو کسی نے چاقو مار کر زخمی کر دیا۔ اور آس پاس کے لوگ اس زخمی انسان کو صرف تڑپتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ لیکن کسی نے بھی مدد کے لیے ہمت نہ کی۔ یہاں تک کہ وہ انسانوں وہی ترپتا ہوا مرگیا۔ یہ لڑکا عبدالستار ایدھی تھا جو یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔

عبدالستار ایدھی کو اس بات کا دلی بہت افسوس ہوا۔


عبدالستار ایدھی نے کہا کہ اس دنیا میں تین طرح کے لوگ ہیں۔
ایک وہ جو دوسروں کی جان لیتے ہیں۔
دوسرے وہ جو صرف تماشہ دیکھتے ہیں۔
اور تیسرے وہ جو مدد کرتے ہیں۔

عبدالستار ایدھی نے اپنے لیے فیصلہ کیا کہ وہ مدد کرنے والا بنانے گے۔

اسی سوچ کی بنیاد پر آپ نے کپڑے کا کاروبار کرنے کی بجاۓ ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام اور فون نمبر لکھوایا۔ اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔


یہ صرف پہلا قدم تھا۔ عبدالستار ایدھی تو اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرچکے تھے۔

اگر آپ عبدالستار ایدھی یہ پوسٹ مکمل پڑھے گے تو یقینََ آپ کا دماغ چکرا جائے گا۔ 

ایک بار عبدالستار ایدھی  نے دیکھا کہ ایک میت کے گھر والے  اس کی لاش کو نالے میں سے نکالنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہیں۔ اس بات پر عبدالستار ایدھی خود نالے میں سے اس لاش کو نکالنے کے لیے تیار ہوگیئے۔ آپ نے نہ صرف للاش کو نالے میں سے باہر نکالا بلکہ اس کو غسل دینے کا انتظام کیا۔ اس کا جنازہ پڑھایا اور خود اپنے ہاتھوں سے اس کی قبر کھودی۔ اس سب کے بعد اس میت کو دفنایا گیا۔


عبد الستار ایدھی کے سوچنے کا انداز:

یہ سب کام،ایسی سوچ اورلوگوں کی مفت میں مدد کرنے کا جزبہ عبدالستار ایدھی کو ہم سب سے جدا کرتا ہے ---- یعنی کہ عبد الستار ایدھی بھی ہم سب کی طرح ہی ایک انسان تھے لیکن ان کی سوچ ہم سے مختلف تھی۔

عبد الستار ایدھی نے اگر کسی بڑھے انسان کو لاچار دیکھا تو ان کے کھانے لیے لئے مفت میں دسترخوان لگا دیئے۔

اگر بے بس عورتوں کو دیکھا تو ان کے لیے میٹرنٹی ہوم بنا دیئے۔


اور جب بے بس بچوں کو دیکھا تو چلڈرن ہوم بنا دیئے۔

اسی سوچ کے ساتھ مسلسل لوگوں کی کی مدد کرنے کے ارادے سے عبدالستار ایدھی آگے بڑھتے رہیں یہاں تک کہ ایدھی فاؤنڈیشن ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا۔
اسی فاؤنڈیشن کو کو سن دو ہزار میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی  شامل کیا گیا۔

آپ کی خدمات:
آپ نے نالوں سے آٹھ ہزار لاشیں نکالنے میں مدد کی۔
لاچار لڑکیوں کی شادی کروانے میں مدد کی۔
دنیا کا سب سے بڑا پرائیویٹ ایمبولینس نیٹ ورک بنایا۔


عبدالستار ایدھی خود تو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کے بنائے گئے ادارے آج بھی لوگوں کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔

پیغام:
اگر ہم لوگ انسان ہونے کا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تو ہمارے اندر بھی مفت میں لوگوں کی مدد کرنے کا جزبہ ہونا چاہیے۔

0 Comments:

لوگوں کی بدلتی ہوئی سوچ شادی یا پھر مالی بربادی


یہ بات بہت تکلیف دینے والی ہے کہ آج کل شادیوں میں کھانا کھلانے اور باقی دوسری رسومات میں پیسے کو ضائع کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔

یہ سب یا تو دوسروں کو نیچا دکھانے کے لئے کیا جاتا ہے یا پھر اپنی شہرت دکھانے کے لیے۔

ضرورت سے زیادہ دکھاوا کرنا۔ اور ضرورت سے زیادہ پیسہ ضائع کرنا۔ نارمل خاندانوں کے لیے شادی جیسے فرض کو پورا کرنا کافی زیادہ مشکل بنا رہا ہے۔

دوسری طرف ہمارے معاشرے میں ایک اور خرابی پائی جاتی ہے۔ کہ ہم لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہونے کی بجائے ان کی خوشیوں کو برباد کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔ یعنی کسی دوسرے کی شادی پر سلامی کے طور پر ہم چند سو روپے دیتے ہیں اور ان کے کھانوں میں پیسوں سے زیادہ برائیاں نکال دیتے ہیں۔

کیا آج ہمارے اندر احساس نام کی چیز ختم ہو چکی ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ شادی کا قرض اتارنے میں لڑکی کے والدین کی پوری عمر گزر جاتی ہے۔ ہم سب برائیاں نکالنے میں پہل تو کرتے ہیں لیکن مدد کرنے میں نہیں ہیں۔

آپ سب بھی خود سے یہ سوال بوچھیں کہ آخر ہم لوگ کیوں شادی جیسے مقدس رشتے کو سادگی سے ادا نہیں کر سکتے۔

اگر آپ لوگ پیسے والوں کو دیکھیں گے۔ تو سوچیں کہ ان کو تو اپنا پیسہ خرچ کرنے کے لیے صرف ایک بہانہ چاہیے۔ لیکن اصل مسئلہ ان کا ہے۔ جو اپنے مکان کا کرایہ بھی نہیں دے سکتی تی۔

ایک بات جو میں بتانا چاہوں گا۔ ہم لوگ جو کچھ مرضی پڑھ لیں، سن لیا یا پھر دیکھ لیں لیکن جب تک ہم خود کو نہیں بدلیں گے۔ تب تک ہمارے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جائیں گے۔ اور دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں ہماری خوشیاں ختم ہوتی جائیں گی۔

اگر ہم اپنی حیثیت کے مطابق شادی بیاہ پر خرچ نہیں کریں گے۔ تو پھر ایسی شادی شدہ زندگی آپ کے اوپر بوجھ بھی بن سکتی ہے۔

0 Comments:

آخر کس وجہ سے بچے جھوٹ بولنا سیکھتے ہیں؟


ہم سب کو یہ بات معلوم ہے کہ آج کل کے بچے ہر بات پر جھوٹ بولنا سیکھتے جارہے ہیں۔
اور یہ سب جھوٹ یا تو بچے والدین کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے بولتے ہیں یا پھر والدین سے کوئی کام کروانے کے لئے۔

اس کے علاوہ جیسے ہی بچے سکول جانا شروع کرتے ہیں۔ تب ان کے جھوٹ بولنے کی تعداد میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

اگر بچوں کو شروع سے ہی جھوٹ بولنے پر منع نہ کیا جائے تو بعد میں یہ بات آپ کے لیے کافی زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ 

اگر ایک بچہ ہر بات پر جھوٹ بولنا شروع کر دیے تب یہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔ اور والدین کے لیے پریشانی۔
والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تبھی سے بچے کو جھوٹ بولنے پر منع کیا جائے اور سچ بولنے کی ترکیب دی جائے۔

اس کے علاوہ کچھ ایسے طریقے ہیں جن کی مدد سے بچوں کی اس عادت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

نمبر ون:
اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے سے کوئی ایسی بات نہ پوچھی جائے جس پر اسے جھوٹ بولنا پڑے۔
مثال کے طور اگر بچے سے کوئی چیز ٹوٹ جاتی ہے تو اس سے یہ مت پوچھا جائے کہ یہ کس طرح ٹوٹٹی ہے۔ اور نہ ہی کم عمری میں بچوں پر غصہ کیا جائے۔ یہ سب وہ مین وجہ ہے جن پر بچے سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے-

نمبر ٹو:
اگر بچہ پہلی بار جھوٹ بولتا ہے۔ تب بچے کو سمجھانا بھی ضروری ہے۔ اور ہر بار بچوں کے جھوٹ کو نظرانداز کرنا بھی غلط ۔ 
بچے کو اچھے طریقے سے سمجھایا جائے کہ جھوٹ بولنے کا کیا نقصان ہے اور سچ بولنے کا کیا فائدہ ہے۔ 
ان سب کے علاوہ آج کل والدین کی یہ صورت حال کہ بچوں کو کچھ اور کہتے ہیں اور خود کچھ اور کرتے ہیں۔

ایک بات یاد رکھیں بچوں کو سمجھانے کی بجائے ان کو عمل کر کے دیکھانا چاہیے۔

0 Comments: