وفا کو بے وفا ہونے میں دیر نہیں لگتی | اردو شاعری


کوئی منافقت آتی نہیں مجھے
نا جانے کیسے رشتے نبھا سکوں گا میں


وفا کو بے وفا ہونے میں دیر نہیں لگتی 
اگر ایک بہانہ مل جائے تو محبت بدلے میں دیر نہیں لگتی

اکیلا تو مجرم نہیں تھا دوبارہ تمہارے دیدار کا
جب پہلی دفعہ دیکھا میں نے مسکرائے تو ضرور ہوں گے


دوسروں کا درد مٹانے والا کیسے بن جاؤ آخر
نہ درد مٹانے دیتے ہیں نہ خوشی منانے دیتے ہیں


صبر اور قدر تھی کسی زمانے میں قیمتی
آج صبر بھی سستا ہے قتل بھی سستا ہے


آج جسموں کو دیکھنے کا نام ہے محبت
ایمان دیکھو ہمارے سستے داموں بکتے ہیں


کبھی اس تنہائی سے ڈر لگتا تھا
آج انسانوں کے لہجے سے ڈر لگتا ہے


کبھی زمانہ بے صبر تھا اپنی عزت بنانے میں
آج زمانہ بے صبر ہے اپنی عزت گوانے میں

0 Comments: