ایک دن آئے گا جو آپ کی زندگی بدل دے گا




آپ کی زندگی میں ایک ایسا دن ضرور آئے گا۔ جو آپ کی زندگی بدل دے گا۔ یہ دن میری زندگی میں بھی آیا تھا۔
اور اسی دن آپ کو دو راستے ملیں گے۔ یہ آپ پر ہے کے آپ کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔
آپ سب لوگوں کی طرح میرے ماں باپ بھی یہی چاہتے تھے۔


 کہ کوئی اچھی سی سرکاری نوکری تلاش کرو۔
لیکن میرے دماغ میں کیا ہے- میں کیا کرنا چاہتا ہو۔ وہ نہیں جانتے تھے۔ آپ لوگوں کی طرح میں نے بھی بہت طعنے سنے ہیں۔
اور آخری الفاظ تم کچھ نہیں کر سکتے۔ تم بڑے ہو کر کیا کرو گے۔ 
اگر میں سچ بتاؤ تو میں نے کچھ الگ کرنے کا سوچا تھا۔ موٹیویشن سپیکر بننے کا سوچا تھا۔ لیکن کیسے بنوں یہ نہیں پتا تھا۔ یہ سب سوچ کر۔ میری نیند اڑ جاتی تھی۔ کیونکہ میں وہ کرنا چاہتا تھا۔ جس سے میرے گھر والے منع کرتے تھے۔
آخر میں نے وہ کام شروع کردیا۔ میں نے یوٹیوب پر ویڈیو بنانا شروع کردیا۔ میں صحیح کر رہا ہوں یا غلط یہ مجھے نہیں پتہ۔ مجھے اس میں کامیابی ملتی ہے یا نہیں یہ بھی نہیں پتا۔
لیکن ایسا کرنے سے مجھے ان سوالوں کا جواب ضرور مل جائے گا۔ کہ میں صحی ہو یا غلط اور آخر مجھے ان کا جواب مل ہی گیا۔ ان سوالوں کا جواب جو میں خود سے کرتا تھا۔
کہ آخر کیوں میں وہ نہیں کرسکتا جو میں چاہتا ہو؟
آخر کیوں میں اپنی مرضی نہیں کرسکتا؟
کیوں ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر پاتے؟

آپ یہ ویڈیو دیکھیں آپکو ان سوالوں کا جواب مل جائے گا۔
ہم سب اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ بننا چاہتے ہیں۔ 

لیکن پتہ ہے کس طرح۔۔۔۔۔ سہارے کے ساتھکسی کی مدد لے کر۔

یاد رکھیں دوستو۔ کوئی آپ کی مدد نہیں کرے گا۔ اور اس طرح کی سوچ ہمیں کمزور کرتی ہے۔ انسان سہارے سے نہیں۔ خود کی محنت سے کچھ کرتا ہے۔
کامیابی کوشش کرنے سے ملتی ہے۔ رسک لینے سے ملتی ہے۔ خود کو بدلنے سے ملتی ہے۔
 اور یہاں پر لوگ ہمیں ہر طرح کی باتیں کریں گے۔
ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ان کی باتوں سے ڈر جائیں اور ان لوگوں کی باتوں میں آ جائے کہ شاید یہ سبھی لوگ سچ کہہ رہے ہیں۔
اور رسک لینا چھوڑدیں۔ اپنے آپ کو بدلنا چھوڑ دیں۔
ہمیں زندگی میں ایسے بہت سارے لوگ ملیں گے۔ جو کہیں گے کہ ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں کچھ نہیں کیا۔ وہ ہمیں باتیں سنائیں گے۔
یہ بات ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا اور اگر ہم نے کامیاب ہونا ہے۔ تو ہمارا کام ہے کوشش کرنا۔
تب تک کوشش کرنا جب تک اس کام کو پورا نہیں کر لیتے۔


0 Comments: