کامیابی کے 3 راز اور سبق







آج 2018 کا سال ختم ہوچکا ہے. دنیا کے ایک امیر آدمی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہم ہر انسان سے کچھ نہ کچھ اچھا ضرور سیکھ سکتے ہیں.
اگر ہم دیکھیں تو ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہوتی ہے یا کوئی نہ کوئی غلط کام ضرور کرتا ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ کہیں نہ کہیں وہ اپنی کمپنی میں یا اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ صحیح بھی کر رہے ہوتے ہیں اور ہم ان کی اسی چیز سے کچھ نہ کچھ اچھا سیکھ سکتے ہے  جس سے ہم اپنی زندگی میں بہت جلد اور تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
تو اسی بات پر عمل کرتے ہوئے 2018 میں جو میں نے صحیح باتیں سیکھی ہیں۔ کتابوں سے، کمپنیوں سے اور کچھ لوگوں سے جس میں اس دنیا کے سب سے امیر لوگ بھی شامل ہیں۔ تو ان لوگوں سے سیکھی ہوئی باتوں سے میں ٹاپ تین باتیں جو میں نے پچھلے سال سیکھی ہیں وہی آپ کے ساتھ شیئر کروں گا۔


نمبر ون گیم کھیلنا

اس سال پبجی گیم نے تو کمال کر دیا یعنی ایک چھوٹے پانچ سال  کے بچے سے لے کر ایک بوڑھے ادمی تک میں نے سب لوگوں کو یہ گیم کھیلتے ہوئے دیکھا ہے راستے میں چلتے ہوئے یا بیٹھے کھانا کھاتے ہوئے کہیں نہ کہیں کوئی انسان ایسا مل ہی جاتا ہے۔ اس گیم کو کھیلتے ہوئے۔

خیر یہ تو ہوئی گیم کھیلنے والوں کی باتیں۔


اب جو سبق میں نے اس سے سیکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہمیں گیم کھیلنے والے کی بجائے گیم بنانے والا بننا چاہیے۔ تو اب بات کرتے ہیں گیم بنانے والے کی۔

پبجی گیم آج کے ٹائم میں ایک فیمس گیم ہے۔ 2018کی رپورٹ کے مطابق ایک دن میں ملین اف لوگ اسے کھیلتے ہیں۔ اس میں اسی کون سی خاص بات ہے کہ لوگ اس کو اتنا پسند کرتے ہیں وہ بھی میں آپ کو بتاؤں گا آپ اس ویڈیو کو دیکھتے جائیں۔

اس گیم کو جو بنانے والا شخص جس کا نام ہے برینڈن گرین آج کے ٹائم میں اس کی کمائی فائیو بلین ڈالر ہو گئی ہے۔ یہ سب بتانے سے میرا مقصد کیا ہے میرا مقصد صرف آپ کو انسپائر کرنا ہے تاکہ آپ میں سے ایٹ لیسٹ کوئی انسان تو اس سے اچھی گیم بنائے گا۔

اب یہ گیم اتنا فیمس کیوں ہوا میں آپ کو اس کے کچھ پرنسپل بتاؤں گا جو آپ کو اسی طرح کے فیمس گیم اور پروڈکٹ بنانے میں مدد کریں گے جس کے لوگ عادی ہو جائیں۔
اور آپ گیم کے علاوہ کوئی بھی اور پروڈکٹ بنا کے اور  ان کو بیچ کر امیر بن سکتے ہو۔


اس گیم کی خاصیت

اس گیم کی خاصیت ہے کہ یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرح ہک ماڈل کا استعمال کرتا ہے۔ جس طرح فیس بک اور یوٹیوب کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگ اس کے عادی بن جاتے ہیں۔
انسانوں کی ایک عادت ہوتی ہے کہ وہ 40 پرسنٹ سے زیادہ جو چیزیں ہر روز کرتے ہیں وہ سوچ سمجھ کے نہیں کرتے۔ بلکہ صرف اسی وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ وہ ان چیزوں کے عادی بن جاتی ہے۔

اس لئے اگر آپ کو بھی  انٹرنیٹ کے دور میں کامیاب ہونا ہے۔ وہ بھی جلدی سے۔ تو آپ کو بھی کوئی ایسی پروڈکٹ بنانی ہوگی جو لوگوں کی عادت بن جائیں۔
تو آپ یہ سب کر سکتے ہیں ھک ماڈل کا استعمال کرکے اس کے چار سٹیپ ہیں جو کہ میں آپ کو شوڑٹ کر کے بتانے والا ہو۔

انسان کو کسی بھی چیز کا عادی بنانے کے لئے سب سے پہلا سٹیپ ہوتا ہے ٹریگر۔ اس میں انسان کو دو طریقوں سے کسی چیز کا عادی بنا سکتے ہیں پہلا انٹرنل اور دوسرا ایکسٹرنل طریقہ۔
اگر میں آپ کو آسان طریقے سے بتاو تو انٹرنل طریقہ میں خودی کسی پروڈکٹ کی یاد آتی ہے جیسا کہ انسان بور ہوتا ہے تو کسی گیم کا یاد آنا۔
اور دوسرا ایکسٹرنل طریقہ یعنی ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے کسی چیز کی یاد کرانا۔


کیسی چیز کو فیمس کرنے کے لیے سٹیپ نمبر ٹو- مختلف انعام

اگر میں آپ کو کوئی بہت آسان کام کرنے کو بولوجس کو کرنے کے بعد میں آپ کو ایک انعام دو۔ وہ انعام ہے چاکلیٹ۔ تو شاید میرا یہ کام آپ ایک دفعہ کریں دو دفعہ کریں یا پھر تین دفعہ کریں گے۔-- آخر بور ہونے کے بعد آپ میرا یہ کام نہیں کریں گے۔ لیکن جیسے ہی میں آپ کو اس کام کرنے کے بعد کبھی چاکلیٹ کبھی دوسرا انعام اور کبھی پیسے دوں۔ مطلب کام ختم کرنے کے بعد میں آپ کو ہر بار کوئی مختلف انعام دوں۔ تو آپ میرا یہ کام بار بار کریں گے۔ صرف اس مختلف انعام کی وجہ سے۔


نمبر3 مارکیٹنگ

آج سے پہلے آپ کو مارکیٹنگ کرنے کے لئے ایک اچھے کیمرے اور مائیک وغیرہ کی ضرورت ہوتی تھی یا پھر آپ کو مارکیٹ کرنے کے لئے اچھے خاصے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ لیکن آج ٹک ٹوک موبائل ایپ وجہ سے آپ فری میں مارکیٹنگ کر سکتے ہیں۔

میں اسی طرح کی مزید ویڈیو بناتا رہوگا۔ جن کو دیکھنے کے لیے آپ اس چینل کو سبسکرائب کرسکتے ہے۔ اور اپنی زندگی میں کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ویڈیو اچھی لگی تو لائیک کو کومینٹ ضرور کریں۔  

0 Comments: