ہم خوش کیوں نہیں رہ پاتے؟


اس زندگی میں ہم سب کسی منزل کو پانے میں کتنی محنت کر رہے ہیں۔ کوئی پیسے کے لیے۔ کوئی تعلیم کے لیے۔ کوئی صیحت کےلیے۔ کوئی نام بننانے کے لیے۔ تو کوئی کاروبار کے لیے۔ 

ان سب کو کرنے کی صرف ایک ہی ریزن ہے۔ وہ ہے خوشی۔ یہ سب محنت ہم خوش رہنے کے لیے کرتے ہیں۔ سکون حاصل کرنے کے لیے کررتے ہیں۔ 

لیکن میرے دماغ میں ایک سوال ہے۔ کہ 
ہم سب اس منزل تک پہنچنے کے لیے محنت تو کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی وہ خوشی نہیں ملتی۔ جو ہم چاہتے ہیں۔ جس کے لیے دن رات ہم محنت کرتے ہیں۔   

اس کے پیچھے کیا ریزن ہے۔ وہ میں آپ کو بتاؤں گا۔ 

جیسی ہم زندگی چاہتے ہیں۔ جو ہم فیوچر چاہتے ہیں۔ جو ہم نام چاہتے ہیں۔ یہ سب ہم حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ تب ملے گا ۔ جب ہم دکھ درد کو برداشت کریں گے۔

بغیر محنت اور درد کے آپ کو کوئی منزل نہیں ملے گی۔ کوئی کامیابی نہیں ملے گی۔

ہم یہ سب درد برداشت کرسکتے ہیں۔ کوئی دوسرری چیز نہیں روکتی۔ بلکہ جو ہمارے اندر کا ڈر ہے۔ وہ ہمیں روکتا ہے۔ اپنے بارے میں ہم سب کچھ اچھا تو سوچتے ہیں۔ لیکن اس سوچ کو پورا کیسے کرنا ہے۔ یہ نہیں سوچتے۔ کن طریقوں سے کرنا ہے۔ یہ نہیں سوچتے۔ کن چیزوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ نہیں سوچتے۔


آپ کو منزل تب ملے گی۔ جب آپ چیزوں کو اچھی طرح سے جج کرو گے۔ تو یہ ججمینٹ آپ کو تب آئے گی۔ جب آپ  ہر طرح کے ایکسپیرئینس فیس کروں گے۔

جیسے ہر کوئی جنت میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن موت سے ڈرتا ہے۔ ہر کوئی کامیابی چاہتا ہے ۔ لیکن نکامی سے ڈرتا ہے۔ تو پھر کبھی نکامی سے مت ڈرو۔ کبھی محنت کرنے سے مت ڈرو۔

اپنے گولز لکھوں۔ اپنے مقصد لکھوں۔ ان کو پورا کرنے کے لیے اپنے آپ کو پوش کرو۔ کیوں کہ کوئی دوسرا آپ کے لیے کچھ نہیں کرے گا۔ جس منزل کو حاصل کرنا چاہتے ہو۔ اس کا راستہ آپ نے خود پورا کرنا ہے۔

ہم تب کوئی کام پورا نہیں کرپاتے جب ہم دوسروں پر امید لگاتے ہیں۔

ہم اس وقت بڑے طریقے سے فیل ہوتے ہیں۔ جب اپنی تیاری خود نہیں کرتے۔ اور دوسروں سے امید لگاتے ہیں۔

اگر کوئی کام اچھے طریقے سے کرنا چاہتے ہو۔ تو اسے خود کرو--- اس میں----- میں ٹیم ورک کی بات نہیں کررہا۔ ٹیم ورک ایک الگ چیز ہے۔ اس میں بھی آپ کو اپنا اپنا ٹاسک ملتا ہے۔
جتنے اچھے طریقے سے ٹیم کا ہر ممبر اپنا کام کرتا ہے۔ اتنے ہی اچھے سے ریزلٹ ملتا ہے۔

اسی طرح جو آپ اپنا کا ٹاسک ہے۔ جتنے اچھے طریقے سے کرسکتے ہو۔ کرو۔ پھر یہ آپ کی عادت بن جائے گی۔ کہ اپنے کام کی تیاری خود کرنی ہے۔

جیسے میں اپنے چینل کی بات کروں۔ تو میں سکریپٹ خود لکھتا ہو۔ ایڈیٹ اور آپلوڈ یہ سب خود کرتا ہو۔

اس کے ساتھ فیس بک کا پیج اور پین ٹڑرسٹ یہ سب خودی مینج کرتا ہو۔

اس کے پیچھے ایک وجہ ہے۔ میں نے کئی بار کوشیش کی کے ویڈیوں ایڈیٹ کرنے کا کام اپنے بھائی سے کروا لو۔ جو کے ایک ایڈیٹر ہے۔ لیکن مجھے وہ سب نہیں ملتا۔ جیسا میں چاہتا ہو۔

تو جو چیز آپ خود کرسکتے ہو۔ وہ کروں۔ چاہے زیادہ ٹائم دینا پڑے۔ جتنا آپ خود سے کام کروں گے۔ اتنی آپ کی سکل بہتر ہوگی۔ 


جو خوشی اور سکون ہم تلاش کرتے ہیں۔ وہ اسی میں ہے کہ ہم خود محنت کریں۔ ہمیں سکون کیوں نہیں ملتا۔ کیونکہ ہم محنت نہیں کرنا چاہتے۔ بغیر کچھ کیئے۔ سب کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم محنت نہیں کرتے۔ اس کام کے لیے جو ہم سوچتے ہیں۔ تب ہم دکھی ہوتے ہیں۔ 

تو جو آپ کرسکتے ہو۔ وہ کرو۔
  
 

0 Comments: