کامیابی آپ کے اندر ہے



جب ہم اپنے لیے کچھ کرنے کی کوشیش کرتے ہیں۔ کچھ برا کرنے کی سوچتے ہیں۔ تو کچھ لوگ ہمیں روکنے کی کوشیش کرتے ہیں۔ ان میں گھر والے بھی شامل ہوتے ہیں اور دوست بھی۔ یہ لوگ ہمیں ڈراتے ہیں۔ روکتے ہیں۔ اور ہمارے ارادے توڑنے کی پوری کوشیش کرتے ہیں۔ اور زیادہ تر یہ لوگ اس کوشیش میں کامیاب ہوجاتے۔
ہم میں سے زیادہ تر لوگ کیوں ان کی باتوں میں آجاتے ہیں۔ یہ میں بتانے والا ہو۔ اس ویڈیوں میں-

جو بات میں بتانے والا ہوں۔ اصل وجہ اس کے پیچھے ہے۔ اصل میں جو چیز  ہمیں کچھ برا کرنے سے روکتی، آگے برنے سے روکتی ہے۔ وہ چیز ہمارے اندر ہے۔
یہ جو ہمارے اند کا ڈر ہے۔ جو ہمارے اندر کام چھورنے کی عادت ہے۔ یہ ہمیں روکتی ہے۔

اب جو بات میں بتانے والا ہوں۔ اس کو سمجھ نے کی کوشیش کریں۔ جو لوگ ہمیں روکتے ہیں۔ گھر والے بھی اور دوست بھی۔ اگر آپ ان لوگوں کو جواب دینا جاہتے ہو۔ تو آپ کو کیا کرنا ہے۔
پہلے خود کے ارادے مضبوظ کرنے ہیں۔ کوئی کچھ بھی کہے۔ کہ آپ یہ نہیں کرسکتے جتنی مرضی وجہ آپ کو بتائیں۔ کہ پیسے کی وجہ سے نہیں کرسکتے۔ یہ سب اکیلے نہیں کرسکتے۔ جو کچھ مرضی کہے۔اگر آپ اپنے اندد کلیر ہیں۔ آپ کو صاف نظر آہا ہیں کہ آپ کیسی طریقے سے وہ سب کرسکتے ہو۔ جو آپ چاہتے ہو۔ توپھر آپ کو کیا کرنا ہے۔ یہاں آپ کو وہی کرنا ہے۔ جو آپ چاہتے ہیں۔ جس میں آپ کو سوفیصد یقین ہے۔ کہ میں کسی طریقے سے یہ سب کر سکتے ہو۔ 

آپ کو خود سے کہنا ہے۔ کوئی بھی پریشانی آئے۔ ان سب کا سامنا کروں گا۔ نکامیوں کا سامنا کروں گا۔ لیکن چھوڑو گا نہیں۔ اگر آپ یہ کرگے۔ جو میں کہہ رہا ہو۔ تو پھر آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ جس دن آپ نکامی کا سامنا کر گے۔ کہ جس راستے سے ایک بار نکام ہوئے تو کیا ہوا۔ اب اس طریقے سے نہیں بلکہ کوئی طریقے سے کروگا۔ تو جس دن آپ ایسا سوچنے لگ گیے۔ تب آپ انسٹوپ ایبل ہیں۔

چاہے لوگوں کو آپ نکام نظر آئے گے۔ لیکن حقیقت میں یہ آپ کی کامیابی کا حصہ ہیں۔  کیوں کہ نکامے ہونے کے راستے تو بہت ہیں۔ لیکن کامیابی کا صرف ایک۔

یہ نکامی ہی ہمیں سکھاتی ہے۔ کہ اب کونسا راستہ منزل کی طرف جاتا ہے۔

اگر آپ نواز و دین کی کو دیکھے۔ آپ کو پتا چلے گے۔ نکامی اور کامیابی میں کیا فرق ہے۔ جب اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا کہ میں ایک ایکٹر بننا چاہتا ہو۔ ہیرو بننا چاہتا ہو۔ تو ان کے ساتھ بھی وہی ہوا۔ سب رشتے دارو نے، گھر والوں نے، دوستوں نے سب نے اس کا مزاق بنایا۔
لوگوں نے روکنے کی بہت کوشیش کی۔ کہ ہیروں والی شکل نہیں ہے۔ جسم نہیں ہے۔ کیسے ہیرو بنے گا۔ تمہیں کون فلموں میں لے گا۔ لیکن اس نے وہی کیا جووہ چایتا تھا۔ جو اسے پتا تھا کہ وہ کسی طریقے سے کرسکتا ہے۔

شروع میں آپ کو نواز و دین صدیقی کی طرح  ہر جگہ سے واپس مایوس لوٹنا پڑگے۔ وقت لگے گا۔ تب جاکر آپ اس جگہ پہنچوں گے۔ جہاں آپ چاہتے ہو۔
 تو آپ جو چاہتے ہو بس وہی کرتے رہو۔ کبھی افسوس نہیں ہوگا۔ 

جیسے میں وہ کر رہا ہو جو میں چاہتا ہو۔ چاہے سب کچھ ویسا نہیں ہوتا۔ جو میں سوچتا ہو۔ لیکن ان لوگوں کی طرح جنوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ میں بھی ویسے ہی ہار نہیں مانوں گا۔ اور اپنے ساتھ آپ سب کی مدد کروں گا جو میرے جیسی سوچ رکھتے ہیں۔ تو جو لوگ اس طرح کی مزید ویڈیو دیکھنا چاہتے۔ اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ تو اس چینل کو سبسکرائیب کریں۔ اور ساتھ بل آئیکون پر بھی کلک کریں تاکہ نیو ویڈیوں آنے پر آپ کو اس کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔

2 comments:

  1. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete
  2. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete