کوئی کام شروع کرنےکے لیے ضرورت سے زیادہ مت سوچے



یہ کہانی اسے دو لڑکوں کی ہے. جو کہ اپنی اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے. دونوں کی ایک ہی طرح کی خواہش تھی.
کار ایک جیسی, گھر ایک جیسا اور زندگی بھی ایک جیسی گزارنا چاہتے تھے.
دونوں کا مقصد ایک جیسا تھا. لیکن زندگی میں  کرنا کیا ہے یہ دونوں کو نہیں پتا تھا.دونوں کا مقصد ایک ہی تھا کی اتنا پیسہ کما کر یہ سب کچھ حاصل کرنا ہے.
اب دونوں نے اپنے اپنے ٹیلنٹ کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ وہ کس چیز میں بہتر ہیں. اور کیا کر سکتے ہیں.
جو پہلا لڑکا تھا اس کا نام تھا ٹیلر اور دوسرا جسٹن, ٹیلر کوئی کام کرنے کے لیے زیادہ سوچتا نہیں تھا. بس کام شروع کر دیتا تھا. اور جسٹن ایک کام کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ سوچتا تھا.


اگر آپ سمجھے تو یہاں سے ان دونوں کی کہانی میں کچھ فرق ہے۔ ان دونوں کی دو مختلف عادتیں ہیں
وہ یہ کہ ٹیلر آپنے ہر کام کو تب ہی شروع کر دیتا جب وہ پوری طرح سے تیار بھی نہیں ہوتا. اور خود کو آہستہ آہستہ اس کام میں بہتر کرتا. جبکہ جسٹن تب کوئی کام کرتا جب وہ اس کی پوری طرح تیاری کر لیتا۔ اس کے اندر ایک دڑ رتھا۔ جسٹن غلطی کرنے سے دڑتا تھا.
اب یہ دونوں نے ایک پیپر پر لکنھا شروع کیا کے وہ کیا کیا کر سکتے ہیں. وہ کون سی چیز ہے جو وہ دوسروں سے بہتر کر سکتے ہیں. دونوں نے اپنے اپنے پلان کی ایک لسٹ بنالی.
اب ان دونوں نے اس میں سے یہ دیکھا کہ وہ کونسا کام ہے جو وہ ابھی نہیں کر سکتے. تاکہ اس کام کو وقت آنے پر کیا جائے۔
یہ اسے سب کام نکال کر ان دونوں کے پاس دس دس کریئر پلان رہ گیے. 
اب دس میں سے بھی یہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے وہ کونسا کام کرسکتے ہیں۔ جو کہ لانگ ٹرم ہو اور اس میں پیسہ بھی ہو. اور وہ اچھے سے بھی کر بھی سکتے ہو.
تو یہ سب نکال کر ان کے پاس پانچ پانچ کریئر پلان باقی رہے.


اب ان دونوں کے پاس آپنے آپنے پلان تھے جو کہ وہ بغیر وقت ضایع کیے اس کام کو شروع کرسکتے تھے. اب ہوا یہ کے ٹیلر نے زیادہ سوچا نہیں اور بغیر تیاری کے ہی کام شروع کر دیا.
تو ٹیلر نے تو اپنا کریئر شروع کر دیا جبکہ جسٹن ابھی یہی سوچ رہا تھا- کہ ان پانچ میں سے بھی وہ کونسا کام ہے جو وہ بغیر کسی غلطی کے کر سکتا ہے. اور جس کام کے لیے وہ پوری طرح تیار بھی ہے.
جسٹن بس سوچتا رہتا۔ جب کہ ٹیلر پوری محنت کرتا جاتا۔ یہاں تک کہ ٹیلر کو نکامی کا سامنہ کرنا پڑا لیکن پر بھی اس نے امید نہیں چھوری اور آخر کار اپنے مقصد میں بہترین کامیابی حاصل کی۔
ٹیلر نے زیادہ سوچا نہیں۔ صرف اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کام کیا۔ اپنے ویک پوائنٹ پر کام کیا۔ اور بہتر بنتا گیا۔
جبکہ جسٹن صرف سوچتا ہی رہا۔ دیکھا جائے تو جسٹن صرف کنفیوز تھا۔ اس کا سبق یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے جسٹن کی طرح اتنا نہیں سوچنا چاہیے۔
دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو کہ ہر کام میں پرفیکٹ ہو۔ بس ضرورت اس بات کی ہے۔ کہ ہم خود کو امپروؤ کرے۔

1 comment: