آئیں یہ بات سمجھ لیں۔ پیسوں کی پریشانی نہیں ہوگی


ہر انسان کی زندگی میں جتنی بھی پریشانیاں آتی ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کی۔ کاروبار کرنے کی۔ گھر بنانے کی۔ یہ سب پریشانیاں ہماری زندگی میں آتی ہیں. مگر ہم کسی وجہ سے ان کو حل نہیں کرپاتے- مجھے لگتا ہے کہ اس کی سب سے جو بری وجہ ہے۔ وہ ہے پیسہ۔   
 چاہے کچھ بھی ہو ان پریشانیوں کا تعلق پیسوں سے نکل ہی آتا ہے۔  
تو آج ہم اس پروبلم کے بارے میں بات کریں گے۔ بلکہ اس پروبلم کا ٪100 حل نکالے گے۔ جس میں کوئی ادر اودر کی بات نہیں ہوگی۔ یہ ایک پریکٹکل سلوشن ہوگا۔ میں آپ کو اس ویڈیو میں بتاؤں گا کہ آج کے دور میں وہ کون سے طریقے ہیں جن کے ساتھ آپ پیسے کماسکتے ہیں. اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوگی جو کہ آپ نہ کرسکے.

اس ویڈیوں کے بعد آپ جانے گے کے پیسہ کمانا کتنا آسان کام ہے۔ جس کے بعد آپ سوچنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔ کہ آپ نے زندگی کا کتنا وقت ضایع کر دیا۔

اگر زندگی میں خوش رہنا چاہتے ہو تو اس کا صرف ایک طریقہ ہے۔  وہ یہ ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ پیسے کمائے۔ آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ نے کتنے پیسے کمانے ہے۔ اور پھرآپ نے اس سے بھی زیادہ کمانے کی کوشیش کرنی ہے۔ یہ میں اس لیے بتا رہا ہو کہ ضرورت آنے پر یہی پیسہ آپ کے کام آئے گا۔ جس سے آپ کی بہت ساری پریشانیاں دور ہوگی۔
اب آپ کی ضروریات کیسی ہیں یہ تو آپ بہتر جانتے ہیں۔ جیسے کہ کچھ لوگ آپنی زندگی میں بہت اچھے کام کرنا چاہتے ہیں جس سے کہ ان کو خوشی ملے۔ اور اس لیے وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہے۔ ان کی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ تو یہ چیز بھی ایک طرح آپ کی زمہ داری ہے۔ کہ آپ نے خود کے علاوہ ان لوگوں کی ضروریات بھی پوری کرنی ہیں۔
تو اب آپ یہ ضرورت کیسے پوری کریں گے۔ یہ آپ صرف اسی صورت کر سکتے ہیں کہ جب آپ کے پاس پیسے ہوگے۔ اور وہ بھی ضرورت سے زیادہ۔ یعنی کہ آپ کو اپنی ضرورت سے زیادہ پیسے کمانے ہوگے۔
اگر آپ زندگی میں واقع ایک سچی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تو آپنے پیسوں سے کیسی ضرورت مند کی مدد کر کے دیکھے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہو کے آپ کو ایسی خوشی دنیا کے کیسی بھی کونے میں نہیں ملے گی۔ 

اس سے پہلے میں بھی یہی سوچتا تھا کہ پیسوں سے ہم خوشیاں نہیں خرید سکتے۔ لیکن اب آکر مجھے لگتا ہے۔ کہ صرف پیسہ ہی ایک چیز ہے۔ جس سے ہم ایسی خوشیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

اسی لیے  میں بتاں رہا ہو کہ ضرورت سے زیادہ پیسے کماؤں کیوںکہ ضرورت وہ چیز ہے جو ہمیشہ بھرتی ہے۔ ہم چاہتے ہویے بھی اسے کم نہیں کر پاتے۔ تو جب ضروریات بھڑتی ہیں تو ہمیں کمائی بڑھانی پڑتی ہیں۔
تو یہ وہ پوائینٹ ہے جو میں بتانا چاہ رہا ہو۔ کہ زندگی میں آپ کی جتنی بھی ضرورت ہے۔ آپ کو اس سے زیادہ محنت کرنی ہوگی پھر ہی آپ زندگی میں خوش رہ پاؤ گے۔  ورنہ کم از کم اتنا کماؤں کے ضرورت پرنے پر کیسی سے مانگنا نہ پرے- 
اب پیسے کیسے کمانے ہیں وہ بھی میں آپ کو بتاؤں گا۔ بس آپ یہ ویڈیوں دیکھتے جاؤں۔

آج کے دور میں انٹرنیٹ سے پیسے کمانہ بہت آسان ہوگیا ہے۔ کچھ لوگ سوچے گے کہ کیسے آسان ہے۔ بس آپ سنتے جائے۔ اور سمجھنے کی کوشیش کرئے۔
انٹرنیٹ ایک ایسی چیز ہے۔ جس سے کہ آپ بہت طریقوں سے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت بھی اسے بہت سے لوگ جو کے انٹرنیٹ پر پیسے کماں رہے ہوگے۔ یا پھر کمانے کے طریقے دیکھ رہے ہو گے۔ 
آپ کو بس کوئی ایسی چیز بتانی ہے۔ جو لوگوں کی ضرورت پوری کر جائے۔ وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ لوگوں کو کوئی پراڈکٹ بیچ سکتے ہو۔ ان کو انٹرٹین کرسکتے ہو۔اور ایسی اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جو کہ آپ انٹرنیٹ پر کر سکتے ہو۔ لیکن یہ آپ تب کر سکوں گے جب آپ کا اس میں کوئی انٹرسٹ ہوگا۔ اگر آپ دیکھے تو انٹرنیٹ پر بہت آسانی سے پیسے کما سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جن کا کریئر ہی انٹرنیٹ ہے۔ جو کہ صرف یوٹیوب اور بلوگینگ سے لاکھوں کماں رہے ہیں۔
کیسی کے پاس کوئی نالج ہے تو وہ یوٹیوب پر لوگوں کو بتا رہا ہے۔ یا پھر بلاگ پر لکھ رہا ہے۔ جیسے بھی اس کے لیے آسان ہے۔ وہ اسی طریقے سے لوگوں کو بتا رہا ہے۔ اور یہ ہر کوئی کر سکتا ہے۔
جیسے کوئی استاد ہے، تو لیکچر دے رہا ہے۔ اسی طرح ہر کوئی صرف انٹرنیٹ سے لاکھوں کماں رہے ہیں۔ جن کے پاس صرف انٹرنیٹ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تو اگر یہ لوگ کر سکتے ہیں تو پھر آپ بھی کر سکتے ہیں۔ یوٹیوب پر ایک چینل بنائے اور جو بھی نالج آپ کے پاس ہے۔ اس کی ویڈیو بنا ڈالے۔  
  

2 Comments:

کبھی نہ ہار ماننے والی عادت

خود کو کمزور مت سمجھے۔ آپ اکیلے بھی بہت کچھ کرسکتے۔ اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں۔ کہ گھر والوں نے میری مدد نہیں کی۔

اگر آپ کو اپنے گھر والوں سے شکایت ہے تو اس بات یاد رکھیں کہ یہ آپ کے سپنے ہیں۔ آپ نے کود ان کو پورا کرنا ہے۔ اور خود ہی ان کو انجوئےبھی کرنا ہے۔اگر
آپ کے گھر والے آپ کو کسی کام سے روکتے ہیں تو پھر ایک بار یہ بھی سوچوں کے بچپن میں کتنے اسے کام تھے جن سے بھی گھر والے روکتے تھے لیکن آپ نے پھر بھی گھر والوں کے خلاف جا کر کیئے۔
اب اگر اپنے کریئر کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہتے ہو۔ تو پھر گھر والوں سے کیوں ڈر رہے ہو۔ کہی نکامی سے تو نہیں ڈر ہے کہ اگر نکام ہو گیا۔ تو پھر کیا کروں گا۔

اگر آپ اسی ہی حالت میں ہے۔ تو اس کی صرف ایک وجہ ہے۔۔۔۔ صرف ایک

وہ یہ کہ آپ کو خود پر یقین نہیں ہے۔
اگر کوئی آپ کی مدد نہیں کرتا۔ تو فکر مت کریں۔ آپ کو کیسی سے بھی مدد لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں۔ جن کے پاس کھانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن ان لوگوں نے صفر سے اپنا کامیابی کا سفر شروع کیا۔ اور کچھ پاس نہ ہوتے ہوئے بھی کامیابی کو اپنی زندگی کا حصہ بنیا۔

البرٹ آئن اسٹائن سکول میں سب سے بوقوف لڑکا سمجھا جاتا تھا۔ اس سے کوئی بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن اب اسے کون نہیں جانتا۔ پوری دنیا میں اس کا نام ہے۔ آخر ان لوگوں میں کوئی تو بات تھی۔
اور بات صرف ایک تھی خود پر اعتماد۔ اور دوسری کبھی نہ ہار ماننے والی۔

0 Comments:

اگر آپ سپنے دیکھ سکتے ہیں.تو انھیں پورا بھی کر سکتے ہیں


اس دنیا میں ہر انسان سپنے دیکھتا ہیں۔ لیکن سب لوگوں کے سپنے پورے نہیں ہوتے۔ کبھی اپنی وجہ سے، کبھی گھر والوں کی وجہ سے اور کبھی اس دینا کی باتوں کی وجہ سے۔ 
کامیاب زندگی سے پہلے ہمیں لوگوں کی یہ سب باتیں پرداشت کرنی پڑتی ہیں۔  کہ ابھی تم بہت چھوٹے ہو۔ پہلے بڑے ہو جاؤں۔ اتنے بڑے کام نہیں کر سکتے۔ 
یہ دنیا کہ لوگ وہی کہیں گے جو ان کا کام ہے۔ آپ کو ہر چیز کے تانے ملے گے۔ آپ کی عمر اور زمہ داریوں کو آپ کی کمزوری بنائے گے۔ کچھ بھی بڑا کرنے سے آپ کو روکے گے۔
اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک امیر شخص امیر بنتا جاتا ہے۔ اور غریب اور زیادہ غریب۔
اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک انسان جس کے پاس اچھی ڈگری ہوتی ہے۔ امیر نہیں بن پاتا۔ اور جس کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہوتی ہے پھر بھی امیر بن جاتا ہے۔

جو لوگ اپنی زندگی میں زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ چاہے پیسہ ہو یا اچھی ڈگری۔ ایک ریسڑچ کے مطابق ایسے لوگ آپنے دماغ کو صحی استعمال نہیں کرتے۔
آگر آپ پیسے کمانا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے، ایسا ٹیلنٹ ہونا چاہیے، ایسی سوچ ہونی چاہیے۔ جو پیسے کو آپ کو طرف کیھنچے۔
سب سے پہلے آپنے لیے کچھ وقت نکالے اور سوچے کہ آپ کے پاس ایسی کون سی چیز ہیں۔ جس کے کرنے سے آپ تھکتے نہیں۔ کبھی بور نہیں ہوتے۔

آپ یہ تو نہیں سوچ رہے کہ اس میں کون سی نیئ بات بتا رہا ہو۔ لیکن آپ یہ ویڈیوں مکمل دیکھے۔ اس سوال کا جواب آپ کو مل جائے گا۔ آپ کو کامیابی کا راستہ مل جائے گا۔ آپ کو پیسہ کمانے کا طریقہ مل جائے گا۔
کیونکہ یہ وہ راستہ ہے. جس سے میں خود بھی پیسے کما رہا ہو.
سب سے پہلے آپ اپنے ان کاموں کی لسٹ بناؤں، آپ ان کاموں کی لسٹ بناوں  جو کام آپ کو بہت زیادہ پسند ہیں، اور جس کام سے آپ کچھ پیسے بھی کما سکتے ہیں۔ 

پھر ان میں سے وہ سب کم نکال دو جو اس سے بھی بہت اچھے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ کوئی ایسا کام بھی دیکھوں جس سے کبھی پیسہ آنا بند نہ ہو۔ اور یہ کام ایسا ہونا چاہیے۔ کہ آپ اسے جتنا بھی کرلے کبھی تھکے نہیں۔ جو کہ آپ ساری زندگی کر سکے۔ مطلب آپ ساری زندگی بھی یہ کام کریں تو کبھی تھکے نہیں۔

کیونکہ دینا کی سب سے بڑی کمپنی کے مالک نے کہا تھا۔ اگر دنیا میں کو بڑا کام کرنا ہے تو آپنے کام سے پیار کروں۔
اب اگر ان میں سے آپ نے کوئی کام کرنے کا ارادہ کر لیا ہے ۔ تو پھر اسے لوگوں کو دیکھوں جو آپ کے اس کام میں یا پھر آپ کی اس فیلڈ میں پہلے سے کامیاب ہو چکے ہیں۔

آپ ان لوگوں کی زندگی کے بارے میں پڑھوں۔ ان کی کامیاب زندگی کے بارے ویڈیوز دیکھوں۔ بل گیٹس۔ سٹیو جاب۔ ان سب کی بایوگرافی پڑوھوں۔ چاہے آپ یوٹیوبر بنا چاہتے ہیں یا بلوگر یا پھر کوئی بسنیس۔ اپنے تجربے کی بجائے ان لوگوں کی زنگیوں سے سیکھوں۔
اور اگر ان کو پھڑنے میں آپ کو مزانہیں آتا۔ تو شاید آپ اپنے کام کے لیے دل سے مطمین نہیں ہیں۔ یا پھر یہ کام آپ کو پسند نہیں ہے۔ تو آپ کو یہ سب کرنے میں تب ہی مزہ آئے گا۔ جب آپ نے صرف وہی کام کرنے کا ارادہ کیا ہوگا۔ کہ جن کو کرنے میں آپ کو مزا آتا ہے۔ آپ کو تب مزا آئے گا جب آپ کے سپنے ان لوگوں جیسے ہو گے۔
آپ جیسے جیسے اپنے کام میں اگے بھڑتے جائے گے۔ آپ کو خود پر یقین آتا جائے گا۔
آگر آپ اپنی زندگی کو کامیاب کرنا چاہتے ہو۔ تو زیادہ سے زیادہ اپنی فیلڈ میں انفرمیشن حاصل کروں۔ جیسے جیسے آپ کا اس کام میں علم برھتا جائے گا۔ آپ کو اس بات کا پتا چل جائے گا کہ آپ کے لیے اس فیلڈ میں کیا ضروری ہے اور کیا نہیں۔ تب آپ سمجھ جاؤں گے کہ آپ نے نشانہ کہا لگانا ہے۔

مثال کے طور پرجیسا کہ میں ایک یوٹیوبر بنا چاہتا ہو۔ تومجھے اپنی سکریپٹ بہتر کرنی ہوگی۔ اپنی آواز بہتر کرنی ہوگی۔ اسی طرح آپ کو آپنی ان سکیلز پر کام کرنا پڑے گا جن سے آپ پیسا کمانا چاہتے ہیں۔ تو اس کے لیے آپ کو پریکٹیس کرنی ہوگی۔ پریکٹس ہی ایک انسان کو کامیاب بناتی ہے۔ اس پر بروسلی کہتا تھا کہ میں اسے شخص سے نہیں دڑتا جس نے دس ہزار کؐکس کی ایک بار پریکٹس کی۔ بلکہ میں اس شخص سے دڑتا ہو۔ جو یک کک کی پڑیکٹس دس ہزار بار کرتا ہو۔

تو جب آپ کو آپنے کام کے بارے میں انفرمیشن ہوگی تب ہی آپ کوئی ایکشن لے سکوں گے۔ نہیں تو انفرمیشن کے بغیر اندھیرے میں نشانے لگاؤں گے۔
آپ جو آپنے دماغ سے بولتے ہو کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا تو وہ کام آپ کے دماغ میں انٹر ہو جاتا ہے۔ پھر اس سے کوئی ٖفرق نہیں پڑتا کہ یہ کام تھیک ہے یا غلط، دماغ آپ کی بات مان لیتا ہیں۔ اس لیے آپ وہی سوچوں جو کرنا چاہتے ہو۔ صرف پیسہ کمانے طریقے سوچوں۔ صرف کامیابی کے طریقے سوچوں۔ یہ دماغ اس کو مان لے گا۔ بس خود کو بہتر بناتے جاؤں
 

3 Comments:

آپ کی سوچ کیسے آپ کو کنٹرول کرتی ہے؟ مشکل حل کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا عمل


کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے لے سب سے آسان وقت کونسا ہے
 جس میں آپ کوئی بھی کام کر سکتے ہو؟
جیسا کہ کامیاب زندگی کے لیے کچھ بڑا کرنا، محنت کرنا، اپنے سپنوں پر کام کرنا، مشکل فیصلے کرنا، اپنے دڑ کو کم کرنا، سستی کم کرنا۔
یہ سب آپ اس وقت بہت آسانی سے کرسکتے ہو، جب آپ موٹیویٹ ہوتے ہو،
اس وقت آپ پوری طرح سے انڑجیٹک ہو، تو اس وقت تو یہ سب کرنا زیادہ بڑی بات نہیں ہے۔
اصل بات تو تب شروع ہوگی جب آپ بغیر انڑجیٹک یہ سب کرو۔ 
مطلب آپ کا موڈ صحی نہیں ہے۔ کچھ کرنے کا بلکل دل نہیں ہے۔کیا آپ تب بھی آپ اتنی ہی محنت کرتے ہو۔ جب آپ انرجیٹک ہوتے ہوئے کرتے ہو۔
جب آپ کو غصہ آتا ہے۔ تو خود کو قابوں کرنا مشکل کام ہے۔ تو اس مشکل کو آسان کرنا ہے۔
آگر اس غصہ پر آپ کا پورا کنٹرول ہے۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ کہ آپ اس حالت میں بھی صحی فیصلہ کرتے ہو۔
آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو دوسروں کے پاس ہے۔ آپ کے پاس دماغ ہے۔ سوچ ہے، وہ سب کچھ ہے جو ایک انسانی جسم کو چاہیے۔ یہ زندگی ایک گیم کی طرح ہے۔ جس کو کیھلنے کے لیے سب کے پاس ایک جیسا دماغ ہے۔ اس کو کیسے کھیلنا ہے تو یہ ہماری اپنی سوچ پر ہے کہ ہم اسے کیسے کیھلتے ہیں۔ تو یہ وہ چیز ہے جو سب کو ایک جیسی نہیں ملی۔
اگر آپ سوچتے ہو کہ ہر مشکل وقت میں بھی صحی فیصلہ کرسکتے۔ تو آپ واقعی میں ایسا کرسکتے ہو۔ آپ کی آپنی سوچ ہی آپ کی نکامی اور کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

2 Comments:

کوئی کام شروع کرنےکے لیے ضرورت سے زیادہ مت سوچے



یہ کہانی اسے دو لڑکوں کی ہے. جو کہ اپنی اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے. دونوں کی ایک ہی طرح کی خواہش تھی.
کار ایک جیسی, گھر ایک جیسا اور زندگی بھی ایک جیسی گزارنا چاہتے تھے.
دونوں کا مقصد ایک جیسا تھا. لیکن زندگی میں  کرنا کیا ہے یہ دونوں کو نہیں پتا تھا.دونوں کا مقصد ایک ہی تھا کی اتنا پیسہ کما کر یہ سب کچھ حاصل کرنا ہے.
اب دونوں نے اپنے اپنے ٹیلنٹ کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ وہ کس چیز میں بہتر ہیں. اور کیا کر سکتے ہیں.
جو پہلا لڑکا تھا اس کا نام تھا ٹیلر اور دوسرا جسٹن, ٹیلر کوئی کام کرنے کے لیے زیادہ سوچتا نہیں تھا. بس کام شروع کر دیتا تھا. اور جسٹن ایک کام کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ سوچتا تھا.


اگر آپ سمجھے تو یہاں سے ان دونوں کی کہانی میں کچھ فرق ہے۔ ان دونوں کی دو مختلف عادتیں ہیں
وہ یہ کہ ٹیلر آپنے ہر کام کو تب ہی شروع کر دیتا جب وہ پوری طرح سے تیار بھی نہیں ہوتا. اور خود کو آہستہ آہستہ اس کام میں بہتر کرتا. جبکہ جسٹن تب کوئی کام کرتا جب وہ اس کی پوری طرح تیاری کر لیتا۔ اس کے اندر ایک دڑ رتھا۔ جسٹن غلطی کرنے سے دڑتا تھا.
اب یہ دونوں نے ایک پیپر پر لکنھا شروع کیا کے وہ کیا کیا کر سکتے ہیں. وہ کون سی چیز ہے جو وہ دوسروں سے بہتر کر سکتے ہیں. دونوں نے اپنے اپنے پلان کی ایک لسٹ بنالی.
اب ان دونوں نے اس میں سے یہ دیکھا کہ وہ کونسا کام ہے جو وہ ابھی نہیں کر سکتے. تاکہ اس کام کو وقت آنے پر کیا جائے۔
یہ اسے سب کام نکال کر ان دونوں کے پاس دس دس کریئر پلان رہ گیے. 
اب دس میں سے بھی یہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے وہ کونسا کام کرسکتے ہیں۔ جو کہ لانگ ٹرم ہو اور اس میں پیسہ بھی ہو. اور وہ اچھے سے بھی کر بھی سکتے ہو.
تو یہ سب نکال کر ان کے پاس پانچ پانچ کریئر پلان باقی رہے.


اب ان دونوں کے پاس آپنے آپنے پلان تھے جو کہ وہ بغیر وقت ضایع کیے اس کام کو شروع کرسکتے تھے. اب ہوا یہ کے ٹیلر نے زیادہ سوچا نہیں اور بغیر تیاری کے ہی کام شروع کر دیا.
تو ٹیلر نے تو اپنا کریئر شروع کر دیا جبکہ جسٹن ابھی یہی سوچ رہا تھا- کہ ان پانچ میں سے بھی وہ کونسا کام ہے جو وہ بغیر کسی غلطی کے کر سکتا ہے. اور جس کام کے لیے وہ پوری طرح تیار بھی ہے.
جسٹن بس سوچتا رہتا۔ جب کہ ٹیلر پوری محنت کرتا جاتا۔ یہاں تک کہ ٹیلر کو نکامی کا سامنہ کرنا پڑا لیکن پر بھی اس نے امید نہیں چھوری اور آخر کار اپنے مقصد میں بہترین کامیابی حاصل کی۔
ٹیلر نے زیادہ سوچا نہیں۔ صرف اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کام کیا۔ اپنے ویک پوائنٹ پر کام کیا۔ اور بہتر بنتا گیا۔
جبکہ جسٹن صرف سوچتا ہی رہا۔ دیکھا جائے تو جسٹن صرف کنفیوز تھا۔ اس کا سبق یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے جسٹن کی طرح اتنا نہیں سوچنا چاہیے۔
دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو کہ ہر کام میں پرفیکٹ ہو۔ بس ضرورت اس بات کی ہے۔ کہ ہم خود کو امپروؤ کرے۔

1 Comments:

زندگی کو اپنے خوابوں کے طرح کیسے جیئے




کبھی بھی پریشانیوں سے گبرانا نہیں۔ بس یہ سمجھنا ہے زندگی ایک روڈ ہے۔ اور جو بھی پروبلمس ہیں وہ سب سپیڈ بریکر ہیں۔ جو کہ آپ کو کسی خوفناک حادصے سے بچاتے ہیں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھوں انسان کو کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ کیوں کے پہاڑوں سے نکلی ہوئی ہر ندی نے آج تک کسی سے نہیں پوچھا کے سمندر کتنا دور ہے اور کون سا راستہ اس کو جاتا ہے۔ کیوں کے یہ آپنا راستہ خود بناتی ہیں۔

زندگی میں ارادے تب مضبوط ہوتے ہیں جب آپ ڈرنے میں جتنی انڑجی لگاتے ہو۔ اؐتنی ہی انڑجی سپنوں پر کام کڑنے میں لگانی شروع کر دیتے ہو۔
زندگی میں بہت ساری مشکلات آتی ہیں۔ بہت ساری پریشانیاں آتی ہیں۔ پیسے نہیں ہیں، ٹائم نہیں ہے۔ گھر والوں کی سپورٹ نہیں ہے۔ ان سب باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ انکا مقابلہ کرنا نہیں چھوڑ رہے۔
آپ کا دڑ آپ کو قیدی بنا دیتا ہے۔ پھر بھی آپ خود سے امید رکھوں۔ خود پر یقین رکھوں۔ کہ میں اس دڑ کا مقابلہ کر سکتا ہو۔
آپ کی زندگی کا سب سے بڑا پڑاجیکٹ خود کو مزید بہتر کرنے کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا- تو پھر کوئی آپ کو پسند کرے یا نہ کریں۔ تو آپ کے اندر یہ کانفیڈینس ہونا چاہیے۔میں بلکل ٹیھک ہو
چاہے کوئی مجھے پسند کرے یا نہ کرے۔ پر میں دوسروع کے نہ پسند کرنے سے خود کو بدلوں گا نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے ان کے علاوہ اور بھی اسے لوگ ہو گے جو مجھے اسے ہی پسند کریں گے- جیسا میں ہو۔

جب تک آپ اس بات سے پریشان ہے کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچے گے۔ تو آپ اپنی زندگی کو نہیں چلارہے۔ بلکہ یہ لوگ آپ کی زندگی کو چلارہے ہیں۔
تو آپ ان لوگوں کے لیے نہ سوچے. اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے آپ روزانہ کتنی غلطیاں کر رہے ہو۔ اور زندگی میں کتنے سلوں آگے بھڑتے ہیں- لیکن آپ ان لوگوں سے آگے نکل چکے ہو جو لوگ کوشیش ہی نہیں کر رہے۔
کیوں کے بہت سے اسے لوگ ہیں- جو امیر بننا چاہتے ہیں۔ اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس وجہ سے کچھ نہیں کر پاتے- کیونکہ وہ کوشیش نہیں کرتے۔





    

1 Comments:

دنیا کے سب سے کامیاب لوگ آخر کیسے کامیاب بنے؟


آپ میں سے بہت سے لوگ ہوں گے جنوں نے زندگی میں کچھ بڑا کرنے کا سوچا تو اس پر لوگوں نے آپ کا مزاق بنایا ہوگا۔
آپ کے بیسنس پلان کا مزاق بنایا ہوگا۔
آپ کی سوچ کا مزاق بنایا ہوگا۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان لوگا کا سب سے بڑا آپ کو کیا فائدہ ہے.
جو لوگ آپ کا مزاق بناتے ہیں اصل میں یہی لوگ آپ کی مدد کرتے ہیں.
یہ لوگ آپ کی مدد کرتے ہیں زندگی میں کچھ بڑا کرنے کی.
زندگی میں کچھ حاصل کرنے کی. کچھ ایسا کرنے کی جو کہ وہ خود نہیں کر سکتے. 
لوگ آپ ہنستے ہیں کیوں کے آپ کی سوچ ان سے بڑی ہے.
لوگ آپ پے ہنستے ہیں کیوں کے آپ کے خواب اُن سے بڑے ہیں.

اگر لوگ آپ کا مزاق بناتے ہیں تو پھر سمجھ جاؤں کے آپ صحی راستے پر جا رہے ہو. کچھ برا کرنے جارہے ہو. سمجھ جاؤں کے کامیاب ہونے والے ہو۔ تو بس چلتے جاؤں. روکوں مت.


کیوں کہ یہ وہ لوگ ہےجو آپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے. وہ آپ کے ارادو کو نہیں جانتے کہ آپ کیا کر سکتے ہو.
آگر آپ کو کامیاب انسان بننا ہے۔ تو لوگوں کے مزاق، لوگوں کے تانے، لوگوں کی باتے ان سب کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا۔
اگر آپ واقعی کچھ برا کرنا چاھتے ہو- تو یہ بہت ضروری ہے۔ جب بھی آپ کا کوئی مزاق بنائے تو آپ کو خود پر پورا یقین ہونا چاہیے۔ آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ اب میں انھیں کر کے دیکھاؤں گا۔
تب آپ کو کامیابی کا زیادہ مزہ آئے گا۔ جس وقت ان لوگوں کے منہ بند ہوگے۔ جو کہتے تھے آپ نہیں کرسکتے۔

آگر آپ انٹرنیٹ پر سرچ کریں۔ تو دیکھے گے جن لوگوں نے کچھ بڑا کیا ہے۔ وہ سب اسے بہت سے لمحوں سے گزرے ہیں۔ جن سے آپ گزر رہے ہو۔ بس ان کی کامیابی کا ایک ہی راز تھا۔ کہ ان لوگوں نے کسی کی بھی پروا نہیں کی۔ کسی کی بات نہیں سنی۔ کسی کا یقین نہیں کیا۔
آپ کوپتا جلے گا کے دنیا کے کامیاب لوگ سٹیو جابز، رچرڈ برنسن، تھامس ایڈیشن، البرٹ آئنسٹائن یہ سب کامیاب ہونے سے پہلے حیرت انگیز اور مشکل حلات میں سے گزرے ہیں۔
تو اگر آپ کو بھی اپنے سپنے پورے کرنے ہے تو اس میں کوئی شک نہیں، اسے ہی مشکل اور سخت حلات کا سامنا کرنا پڑے گا-








1 Comments:

How I Can Become A Successful Man | Power of Thinking - Motivational Video For Successful Life

0 Comments:

ایک کامیاب انسان کیسے سوچتا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے۔ کہ جب آپ صحیح سے کوئی کام نہیں کر پاتے۔
تو وہاں! آپ برے آرام سے بول دیتے ہو کہ میں بیمار تھا، مھجے کہی جانا تھا،  اس لیے میں سکول نہیں آپایا۔
آفس وقت پر نہیں آپایا کیوں کے بارش بہت تھی۔
تو آفس میں اور سکول میں ہر کوئی آپ کی بات مان سکتا ہے۔ 
لیٹ آنے پر آپ کو ماف کر سکتا،
سکول میں کام نہ کرنے پر بھی مافی مل سکتی ہے۔
جب آپ کوئی بھی کام کرتے ہو، اس میں آپ کی غلطی معاف بھی کی جا سکتے ہیں۔
کہ اگلی بار ٹیک سے کام کرنا۔
لیکن! 
زرہ سوچے، آپ کے جو سپنے ہیں جو مقاصد ہیں۔ جن کو آپ،  آپنی زندگی میں پورا کرنا چاہتے ہو،
جو کامیابیاں حاصل کرنا چاہتے ہو،
کیا ان سب سے بھی یہ بولوں گے، مجھے کہی جانا، یا پھر آج بارش ہو رہی تھی۔ 
آپ کے جو بھی سپنے ہیں، جو بھی کامیابی پانا چاہتے ہو۔ 
ان کو آپ کے بھانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا،
آپ نہیں حاصل کروں گے تو کوئی اور کرلے گا، 

جو آپ کی طرح بھانے نہیں بنائے گا، صرف محنت کرے گا، بارش میں بھی اور بماری میں بھی۔

کامیابی اور آپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے صرف ایک بات یاد رکھنی ہے،
کچھ بھی ہو جائے،
کوئی بھی رکاوت کیوں نہ آجائے،
بھر بھی آپنے مقصد کی طرح بھرتے جانا ہے،

تو پھر کبھی روکنا نہیں،
کبھی تھکنا نہیں،
آج قسمت آپ کے ساتھ نہیں تو کیا ہوا،
ایک دن آپ کی محنت آپ کو ضرور ایک کامیاب شخص بنائے گی۔
اگر کچھ پانا ھے تو اتنا تو کرنا ھی ہوگا،
چاہے رو کر کرو یا ھنس،
یا تو خواب مت دیکھوں 
اور اگر دیکھے ہیں تو بھر ان کو پورا کروں 

تو ابھی کے لیے بس اتنا ہی اور اگر آپ کو یہ ویڈیوں پسند آئی ہے، تو مجھے کومینٹ میں ضرور بتائیے گا،
مزید ویڈیوں دیکھنے کے لیے اس چینل کو سبسکرائب کریں اور ساتھ بیل ائیکون پر کلک کریں تاکہ اس طرح کی کوئی بھی ویوڈیوں میس نہ ہو۔

0 Comments:

جدوجہد سے کامیاب زندگی بنتی ہے محنت سے نہیں




کیسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے  جدوجہد کتنی ضروری ہے۔
آخر  جدوجہد کیا ہے آپ جو کہتے ہیں کہ میں نے اتنے سال محنت کی۔ آگر آپ کو کوئی چیز پسند ہے۔ اور آپ نے دن میں کیئ گھینٹے اس پر کام کیا، تو یہ   جدوجہد نہیں ہے۔ آپ ایسے Hard work تو بول سکتے ہو ، لیکن یہ  جدوجہد نہیں ہے-
تو جدوجہد کیا ہیں،  اگر آپ کو کوئی کام اچھا لگتا ہے اور اسے آپ کرتے جا رہے ہو، اس میں آپ صرف محنت کر رہے ہیں،  آبھی تک اپ نے کوئی  جدوجہد نہیں کی-
آپ کی  جدوجہد کی شروات تب ہوتی ہے جب آپ کو یہ کام کرنے کے لیے لڑنا پرتا ہے۔ آپ کوئی کام کر ریے ہیں۔ کرتے جا رہے ہیں۔ کرتے جا رہے ہیں
تو یہ صرف محنت ہے۔ لیکن آب ایک وقت آتا ہے کہ آپ یہ کام کر نہیں سکتے۔ پھر آپ کام کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور کام پورا کرنے کے لیے محنت کر رہیں۔ اب آپ کو کام کرنے کے لیے  جدوجہد کرنی پر رہی ہے۔ یہ  جدوجہد ہے۔
مثال کے طور پر
جب آپ کوئی Game کھیلتے ہو۔ تو آپ کو اس میں مزہ آتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح سے جب آپ اپنی پسند کا کام کرتے ہو، تو یہ بھی آپ کے لیے ایک Game ہے۔ اس میں کوئی  جدوجہد نہیں ہو رہا ہے۔ تو پھر  جدوجہد کب ہو گ؟
جب آپ کے گھر والے بوری طرح سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوری طرح سے آپ کے سپنوں سے نفرت کررہے ہیں۔ کے آپ کو BSC ہی کرنی ہوگی۔ تو اس نفرت کے باوجود بھی آپ وہی کر رہے ہو جو آپ کا دل کہتا ہے۔تو یہ  جدوجہد ہے۔
آپ نہ MOVIES میں دیکھا ہو گا کہ جب کو HERO لڑ رہا ہوتا ہے۔ وہ تب تک بہت اسانی سے مقابلہ کرتا ہے جب تک اسے کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن جب اسے کچھ زخم لگتے ہیں، ہاتھوں پر، پیروں پر، اور جسم پر۔ یہاں تک کہ وہ اب مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔
تو اصل میں یہ  جدوجہد  ہے۔ کہ اب وہ چل بھی نہیں سکتا۔ لیکن پھر بھی مقابلہ کر رہا ہے۔ ------چل بھی نہیں سکتا۔ پھر بھی مقابلہ کرنے کی کوشیش کررہا ہے۔
یہاں پر MARTIN LUTHAR نے کہا تھا۔
اگر تم اڑ نہیں سکتے تو بھاگوں۔
اگر تم بھاگ نہیں سکتے تو چلوں۔
اگر تم چل نہیں سکتے تو رینگتے ہوئے چلوں۔
تو آخر  جدوجہد کی Definition کیا ہے؟
آپ کسی کام کو کر رہے ہوں۔ جس میں آپ کو مزا آتا ہے۔ جو آپ کو پسند ہے۔ تو یہ آپ کا Passion ہے۔ اس میں آپ جتنی بھی محنت کریں۔ وہ صرف محنت ہے۔ STRUGGLE نہیں۔
آپ کی جدوجہد شروع ہوگی۔ لوگوں کے ھنسے سے۔
آپ کی جدوجہد شروع ہوگی۔ کم پیسوں میں بھی کام جاری رکھنے سے۔
آپ کی جدوجہد شروع ہوگی- لوگوں کے تانے سنے سے۔
آپ کی جدوجہد شروع ہوگی۔ جب جسم پوری طرح تھک چوکا ہے۔
تب بھی آپ نہیں رکتے۔ ایک بار اور محنت کرتے ہیں۔  جب آپ تھکنے کہ باوجود بھی نہیں روکتے تو تب آپ کی  جدوجہد شروع ہوگی۔ 

1 Comments: