Recent Posts

آخرت کا ٹھکانا جنت اور جہنم



جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی ان کے لئے بھلائی ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لئے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیار ہو جائیں گے
یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جو کہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔


نصیحت دانشمند لوگ ہی قبول کرتے ہیں اور ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی ساتھ اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ اور اپنے عہد کو ایک بار پکا کرنے کے بعد اسے توڑنے نہیں دیتے۔

ان لوگوں کی ہر ٹائم یہ کوشش ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو برقرار رکھیں۔
اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں۔ اور اس بات کا خوف ان کے دل میں ہمیشہ رہے کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔ 

یہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں
اپنے رب کے دئیے ہوئے رزق میں سے اعلانیہ اور پوشیدہ خرچ بھی کرتے ہیں
اور برائی کو بھلائی کے ذریعے ختم کرتے ہیں۔
اپنے رب کی رضا کے لیے صبر بھی کرتے ہیں۔

آخرت کا گھر ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے۔


باقی رہ گئے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے عہد کو مضبوط باندھنے کے بعد اسے توڑ دیتے ہیں۔ اور ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جن کو اللہ تعالی نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں برا ٹھکانہ ہے۔

کیا ایک مومن انسان جھوٹ بول سکتا ہے



آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یا ایک مومن انسان کبھی بخیل ہو سکتا ہے
کہا کہ نہیں
مومن انسان ہمیشہ سخی ہوتا ہے
لیکن ہوسکتا ہے ہے کہ کبھی بخل بھی کرتا ہے


پھر دوبارہ پوچھا گیا
 کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے
کہا نہیں
مومن ہمیشہ بہادر ہوتا ہے

لیکن ہو سکتا ہے کہ کبھی بزدلی بھی کر جائے

کیونکہ جب انسان کی اولاد پیدا ہوجاتی ہے تو اولاد کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ کبھی وہ بزدلی بھی کر جائے اور کبھی بخل بھی کر جائے

اس کے بعد تیسری بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کے بارے میں پوچھیں گی کہ
 کیا ایک مومن جھوٹا ہوسکتا ہے؟

جواب دیا کہ نہیں ایک مومن انسان کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔

یہ سب اس ہستی کے الفاظ  ہیں جس پر کافر بھی یقین کرتے ہیں کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے۔


ہمارے کاروبار ہمارے گھر اور ہماری زندگی آج اسی وجہ سے بے آرام ہے کیونکہ کہ ہم لوگ جھوٹ بولنے سے پرہیز نہیں کرتے۔

کیا ہمارے لیے صرف اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔

نہیں صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے

ہمارے رویے سے یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ ہم حضور کے غلام ہیں

وقت کو ضائع کرنا زندگی کو ضائع کرنا ہے

وقت زندگی ہے اور اس کو بہتر طور پر استعمال کرکے ہی اپنی زندگی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے  آج کے دور میں ہمیں اپنے اندر وقت کی اہمیت کا احساس پیدا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ 


جو وقت ہمارے لئے قابل استعمال ہے وہ یہی وقت ہے جو ابھی گزر رہا ہے اگر ہم گھڑی کی طرف دیکھیں اور سوچے کہ جس طرح ہر لمحہ تیزی سے گزرتا جا رہا ہے اسی طرح ہماری زندگی آہستہ آہستہ کم ہوتی جارہی ہے

قلت وقت کی شکایت

انسان کی ایک عادت  ہے کہ وہ ہمیشہ قلت وقت کی شکایت کرتا رہتا ہے ایسا اس لئے ہے کہ انسان نے خود کو دنیا میں بہت بری طرح سے الجھا لیا ہیں۔ ہم لوگوں نے خود کو اتنا زیادہ الجھا لیا ہے کہ آخرت کے معاملات کے بارے میں بھی سوچنے کا ٹائم نہیں ہے۔

ہر انسان کے پاس جو زندگی ہے وہ صرف آج کی ہی زندگی ہے کیونکہ  اس کے پاس صرف وہی لمحہ ہے جو وہ گزار رہا ہے۔ اس لیے اپنے دن کو اس طرح تقسیم کرے کہ آپ اپنے دفتر کو بھی وقت دے، اپنے گھر والوں اور اپنے آپ کو بھی۔ اور یہ سب ہم صرف ایک ہی صورت میں کر سکتے ہیں جس کے لیے  ہمیں اپنے اندر وقت کی اہمیت کو پہچاننا ہو گا۔ 

اگر ہم اپنے وقت کا اچھے طریقے سے استعمال کریں گے تو ہم اپنی زندگی کو بھی اچھے طریقے سے گزار پائیں گے

مثال کے طور پر

ہر انسان نے ایک وقت تک اس دنیا میں رہنا ہے اور جو وقت انسان کو دیا گیا ہے وہ برف پگھلنے کی طرح تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ اور اگر اسے غلط کاموں میں ضائع کیا تو اس انسان کی زندگی بھی ضائع ہوجائے گی۔

دنیا کا وقت دیکھتے ہی دیکھتے تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم نے وقت کا صحیح استعمال کرنا ہے یا غلط کیونکہ وقت کو ضائع کرنا زندگی کو ضائع کرنا ہے اور وقت کا صحیح استعمال کرنا زندگی کا صحیح استعمال کرنا ہے۔

تہذیب سے سلیقہ آتا ہے

شچی محبت وعدوں سے نہیں ملتی

کون لوگ ترقی کرنے والے ہوتے ہیں

درد اب میرا واقف ہو گیا

دوستی خریدی نہیں جاتی

ہر بار خلوص بہت مہنگا پڑتا ہے

جہاں دوست ہو وہاں مطلب نہیں ہوتا

اچھے دن بھی آئیں گے

محبت بہت مہنگی پڑتی ہے

جب تم روٹھ جاتے ہو

ہمسفر کے لیے

قیامت تک جدا نہ کرے

میرے درد کی شدت

نا جانے زندگی کیسے گزرے گی

تقدیر پر شکوا کیوں

تم ضد ہو میرے دل کی

وفا کرنا بھی سیکھو

محبت انسان کو ختم کر دیتی ہے

تمہارے پاس بھی دل ہے

ماں باپ کو دیکھنے سے ثواب

اسلام کی خوبصورتی

محبت کی وجہ

وقت گزر ہی جاتا ہے

یادیں دردناک بھی ہوتی ہیں

سیکھ لیا اب لوگوں کے الفاظ سمجھنا

میرا معاملہ صرف اللہ پر ہے

کہی تم بد گماں نہ ہو جانا